کیلاش ستیارتھی کے نوبیل انعام کی نقل چوری

کیلاش ستیارتھی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن کیلاش ستیارتھی کے گھر سے نوبیل ایوارڈ کی نقل چوری ہو گئی ہے۔

کیلاش ستیارتھی نے بی بی سی کو بتایا کہ دہلی میں واقع ان کے گھر پر منگل کی صبح ہونے والی چوری میں نوبیل ایوارڈ کے نقل کے علاوہ ایوارڈ کا سرٹیفکیٹ بھی غائب ہے۔

انھوں نے بتایا کہ چوری کے وقت مکان میں کوئی موجود نہیں تھا۔

کیلاش ستیارتھی کو 2014 میں نوبیل ایوارڈ بچوں اور نوجوانوں کے استحصال کے خلاف جدوجہد اور تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے لیے کام کرنے پر دیا گیا تھا۔

انھیں یہ ایوارڈ پاکستان کے ضلع سوات کی طالبہ ملالہ یوسف زئی کے ساتھ مشترکہ طور پر ملا تھا۔

کیلاش ستیارتھی کے مطابق دہلی پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

'میرے مکان کا تالہ ٹوٹا ہوا تھا جبکہ میرا سرٹیفکیٹ اور اس کے ساتھ میڈل کی نقل دیگر چیزوں کے ساتھ چوری ہو گئی۔ ہم اب بھی اندازہ لگا رہے ہیں کہ کیا کیا چیز لاپتہ ہے۔'

انڈیا میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ادارہ 'بچپن بچاؤ تحریک' کیلاش ستیارتھی نے قائم کیا اور اسے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں میں سرِفہرست مانا جاتا ہے۔

ستیارتھی سنہ 1954 میں مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے تھے اور پیشے کے لحاظ سے وہ الیکٹریکل انجینیئر تھے لیکن 26 سال کی عمر میں ہی انھوں نے اپنی نوکری چھوڑ کر بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔

ستیارتھی کی تحریک نے 80 کے عشرے میں انڈیا میں بچوں سے مزدوری کروائے جانے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے پہل کی تھی۔ یہ ادارہ بین الاقوامی سطح پر ان چیزوں کے بائیکاٹ کے لیے بھی مہم چلاتا ہے جو بچوں کا استحصال کر کے بنوائی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں