مظفرنگر میں اجتماعی ریپ کے مجرمان کو بلاتاخیر سزائیں دیں: ایمنسٹی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’ریپ کے مجرمان کو بلاتاخیر سزائیں دی جائیں‘

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاست اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں ہونے والے فسادات میں اجتماعی ریپ کے مجرموں کو بلاتاخیر سزائیں دے۔

2013 میں ہونے والے مظفر نگر فسادات کے ریپ کے واقعات پر جمعرات کو دہلی میں ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے ایمنسٹی نے کہا ہے کہ ان واقعات میں سزا تو ایک طرف بعض میں تو مقدمات بھی نہیں شروع ہوئے ہیں۔

* ’تھک گئی ہوں، اب نہیں لڑا جاتا‘

* مظفرنگر فسادات، سی بی آئی انکوائری سے انکار

* مظفرنگر: سیاسی رہنماؤں پر فساد پر اکسانے کا الزام

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ فسادات میں ریپ اجتماعی تذلیل اور اہانت ایک ہتھیار بن گیا ہے اور مجرموں کو سزائیں نہ ملنے سے پوری برادری خوف کے سائے میں زندگی گزارتی ہے۔

ایک نیوز کانفرنس میں ایمنسٹی انٹرنیشل نے مظفر نگر کی کم از کم سات ریپ متاثرین کے کیسز کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر کی گئی ہے۔

تنظیم کی اہلکار ماریا سلیم نے کہا ’بیشتر مقدمات میں سماعت ابھی تک پوری نہیں کی گئی ہے۔ ریپ کے ملزموں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور بعض مقدمات میں تو چار برس گزرنے کے بعد بھی فرد جرم تک عائد نہیں کی گئی ہے۔‘

ایک متاثرہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مسلسل خوف کے سائے میں جی رہی ہیں۔

’ہمارے ساتھ ظلم ہوا تو ڈر تو لگتا ہی ہے۔ مجرم کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ ہم اپنے گھر میں ڈرے بیٹھے رہتے ہیں اور کیا کریں۔ پکڑے نہیں جا رہے، وہ تو آزاد گھوم رہے ہیں۔ دھمکیاں ملتی ہیں کہ فیصلہ کر لو نہیں تو تمہیں مار دیں گے۔ انصاف چاہتے ہیں کہ جو مجرم ہیں انھیں سزا ملے۔‘

متاثرین کے ایک وکیل نسیم احمد نے مظفرنگر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنسی مظالم کے چار برس بھی پوری برادری خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے۔

’دہشت تو ان سے ہے۔ پریشر بنا رہے ہیں وہ لوگ۔ ہم پر دو تین بار حملے بھی ہوئے مارنے کے لیے، ایک بار تو عدالت میں ہی ہوا۔ کیونکہ میں مقدمے کا پیروکار ہوں، اگر میں نہیں رہوں گا تو مقدمے کی پیروی ہی نہیں ہو گي اسی لیے ہے یہ سب۔‘

ایمنسٹی کی رپورٹ تیار کرنے والی ماریہ سلیم کہتی ہیں ’ایک برادری کی عورتوں کو اگر آپ ٹارگٹ کریں، تو اس برادری کو آپ شرمندہ کرتے ہیں۔ اس پوری برادری کو۔۔۔تو اس برادری سے بدلہ لینے کا سب سے آسان طریقہ ہے کہ اس کی عورتوں کے ساتھ برا کام کرنا۔ جتنے لوگوں نے ان کے ساتھ ریپ کیا وہ ان کے جان پہچان والے تھے۔ تو بہت آسان ہو گيا ان کو ٹارگٹ کرنا۔‘

Image caption مظفر نگر کے 2013 کے فسادات میں 60 سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے اور ہزاروں لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا تھا

ماریہ کہتی ہیں کہ ’مجرموں کو سزائیں نہ ملنے سے جنسی مظالم اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر مرتکبین کو اپنے جرائم کی سزا مل جائے تو اس طرح کے واقعات میں کمی آئے گی۔‘

ایک متاثرہ خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزموں کی طرف سے انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ’ہمارے اوپر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ ہم مقدمات واپس لے لیں۔ وہ ہمارے رشتے داروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ وہ کیس واپس لینے کے لیے پیسے کی بھی پشکش کرتے ہیں۔ ہم مسلسل خوف میں جی رہے ہیں۔‘

مظفر نگر کے 2013 کے فسادات میں 60 سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے اور ہزاروں لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا تھا۔

فسادات کے بعد متعدد خواتین کے ساتھ اجتماعی ریپ کا انکشاف ہوا تھا۔ بہت سی خواتین اور لڑکیوں نے سماجی مشکلات سے بچنے کے لیے ریپ کا کیس درج نہیں کرایا۔ لیکن کم از کم سات خواتین نے ریپ کی رپورٹ درج کرائی اور ملزموں کو نامزد کیا۔ ان میں سے ایک متاثرہ خاتون گذشتہ برس بچے کی پیدائش کے دوران انتقال کر گئيں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ دو خواتین نے ملزموں کے زبردست دباؤ کے نتیجے میں اپنا بیان واپس لے لیا۔

اترپردیش میں آئندہ ماہ ایک نئی حکومت وجود میں آئے گی۔ ایمنسٹی نے ریاست کی نئی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گینک ریپ کے واقعات کی کسی تاخیر کے بغیر گہری تفتیش کرائے اور مرتکبین کو ان کے جرائم کی سزا دے۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ متاثرین کو دھمکیاں دینے والوں کی گہرائی سے تفتیش ہو اور انہیں گرفتار کیا جائے۔

بین الاقوامی تنظیم نے انڈیا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذہبی فسادات کو روکنے کے ایک ایسا موثر قانون بنائے جس میں حقوق انسانی کے بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کی گئی ہو اور جس میں متاثرین کی بازآبادکاری اور واپسی کی ضمانت دی گئی ہو۔

اسی بارے میں