انڈیا کی نصابی کتاب میں ’بلیوں کو مارنے کے طریقے‘ پر اعتراضات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جانوروں کے تحفظ سے متعلق کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ بچوں کے لیے خطرناک ہے

انڈیا میں سکول کی نصابی کتابوں میں بلیوں کو دم گھونٹ کر مارنے کے سائنسی تجربے پر جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے شدید اعتراض کیا ہے۔

انڈیا کے سینکڑوں نجی سکولوں میں اُس کتاب کو پڑھایا جا رہا ہے جس میں ایک سائنسی تجربہ شامل ہے اس تجربے میں دو بلیوں کو الگ الگ ڈبوں میں بند کیا جاتا ہے اور ان میں سے صرف ایک ہی ڈبے میں سوراخ ہوتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس سے جانوروں اور بچوں دونوں ہی کی زندگی کو خطرہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کتاب کے پبلیشرز نے کتاب سے اس تجربے کو خارج کر دیا ہے

کئی سکولوں نے اس تجربے کو اب بند کر دیا ہے۔

اس تجربے میں یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہوا ہماری زندگی کے لیے کتنی اہم ہے۔ 'آپ دو بلیوں کو باکس میں بند کریں اور جس باکس میں ہوا نہیں جاتی اس میں بند بلی مر جاتی ہے'۔

پی پی پبلکیشن کے پرویش گپتا کا کہنا تھا کہ ایک بچے کے والدین نہ ہم سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ کتاب سے اس حصے کو نکالا جائے کیونکہ یہ بچوں کے لیے خطرناک ہے۔ پرویش گپتا نے بتایا کہ ہم نے تمام کتابیں واپس منگوا لی ہیں اور نئی کتاب شائع کی جا رہی ہے۔

انڈیا میں نصابی کتابوں پر تنازع نیا نہیں ہے۔ 2014 میں ابیک نصابی کتاب اس وقت سرخیوں میں رہی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دوسری جانگ عظیم میں جاپان نے امریکہ پر جوہری بم گرائے تھے۔

پچھلے ہفتے ہی مہاراشٹر میں اس وقت تنازع پیدا ہوا جب ایک نصابی کتاب میں کہا گیا تھا کہ 'بد صورت اور معذور' دلہنوں کی وجہ سے شادیوں میں جہیز کا چلن شروع ہوا تھا۔