مسلمان چار کروڑ، امیدوار ایک بھی نہیں

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption بی جے پی نے اترپردیش جیسی ریاست میں اپنا ایک بھی مسلم امیدوار نہیں بنایا ہے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخاب سے قبل جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اکثر کہا کرتے تھے کہ انھوں نے گجرات کا قرض چکا دیا ہے۔ اب انھیں ملک کاقرض چکانا ہے۔

اس جملے سے ان کی کیا مراد تھی یہ تو معلوم نہیں لیکن ان کے حامی اس سے یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ انھوں نے گجرات میں تو مسلمانوں کو سبق سکھا دیا ہے اب وہ پورے ملک میں انھیں سبق سکھا سکھائیں گے۔

٭ اسمبلی کا الیکشن یا مودی کا ریفرینڈم؟

٭ ’انڈین مسلمانوں میں بے روزگاری کا موذی چکر‘

مودی نے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی اور خود اپنے ہندوتوا کے نظریے کو الگ رکھا اور صرف ترقی اور شفاف حکومت قائم کرنے کی باتیں کیں۔ لیکن پارلیمانی انتخاب میں انھوں نے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سے ایک بھی مسلم کو امیدوار نہیں بنایا۔

2014 کا پارلیمانی انتخاب بھارتی جمہوریت کی تاریخ کا پہلا ایسا انتخاب تھا جس میں اقتدار میں آنے والی حکمراں جماعت میں ایک بھی مسلم رکن نہیں تھا۔ ملک میں مسلمانوں کی آبادی اٹھارہ کروڑ ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی آزادی کے بعد سب سے کم ہے۔

بی جے پی ابتدا سے ہی ہندو قوم پرست نظریے پر عمل پیرا رہی ہے اور اس نظریے میں کچھ حد تک مسلمانوں کے بارے میں شکوک وشبہات کا پہلو بھی شامل رہا ہے۔ ایک مرحلے پر وہ آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے نظریے سے پوری طرح متفق تھی۔ لیکن بعد میں پارٹی نے یہ واضح کیا کہ وہ ایک مذہبی مملکت میں یقین نہیں رکھتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption بی جے پی کے رہنما امت شاہ کے بیان سے یہ نظر آتا ہے کہ ان کی پارٹی اپنے ہندتوا کے ایجنڈے پر قائم ہے

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جن سنگھ اور اس کے بعد نئی شکل میں سامنے آنے والی بی جے پی کے اعتدال پسند رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔ واجپئی اور بی جے پی کے ان کے بہت سے ہمنوا رہمنا پارٹی کو ایک اعتدال پسند جمہوری پارٹی میں تبدیل کرنا چاہتے تھے لیکن آر ایس ایس کے زیر اثر قوم پرست عناصر پارٹی کے اندر اس بحث میں ہمیشہ غالب رہے اور بی جے پی اپنے ہندو قوم پرستانہ نظریے سے باہر نہ آ سکی۔

مودی نے اگرچہ 'سبھی کو ساتھ لے کر چلنے' کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے لیکن یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ انھوں نے اتر پردیش کی 403 سیٹیوں کے لیے چار کروڑ مسلمانوں میں سے ایک کو بھی اپنا امیدوار نہیں بنایا۔

پارٹی کے صدر امیت شاہ اپنے انتخابی جلسوں میں ہر جگہ یہ بات زور دے کر کہہ رہے ہیں کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آگئی تو اسی وقت پوری ریاست میں ذبح خانوں پرپابندی عا ئد کر دی جائے گی۔ ان کا یہ بیان مسلمانوں کے رہن سہن اور معاشرتی روایات پر براہ راست چوٹ ہے۔ انھوں نے سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں مسلمانوں کو بھی بی جے پی کا حریف قرار دیا ہے۔

دوسری جانب کانگریس اور دوسری غیر بی جے پی جماعتیں ہندوتوا اور آر ایس ایس کا خوف پھیلا کر مسلمانوں کو بی جے پی سے بد ظن کرتی رہیں اور انھیں محض ووٹ بینک بنا کر ان کے انتخابی اثرات کو محدود کر دیا۔ گذشتہ 40 برس سے مسلمانوں کے لیے انتخاب کا مطلب صرف بی جے کواقتدار سے روکنا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے خوف کی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو اصل قومی دھارے میں آنے سے ایک طویل عرصے تک روکے رکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption اترپردیش میں مسلمانوں کی اچھی آبادی ہے

برسوں کی سیاست کے بعد مسلمان اب یہ تو سمجھ گئے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے ان کا مسلسل استحصال کیا ہے۔ وہ نئے متبادل کی تلاش میں ہیں۔ اور اس متبادل میں ابھرتی ہوئی جماعت ‏عام آدمی پارٹی کے ساتھ ساتھ بی جے بھی شامل ہے۔ لیکن اترپردیش جیسی ریاست میں جہاں ملک کے 20 فی صد مسلم آباد ہیں وہاں ایک بھی مسلمان کو اپنا امیدوار نہ بنانا اس بات کا عکا س ہے کہ بی جے پی بھی اسی ڈگر پر ہے جس پر کچھ عرصے پہلے تک مسلمان چل رہے تھے۔

وہ یہ بتانا چاہتی ہے کہ اگر مسلمان اسے ووٹ نہیں دیتے، نہ دیں، اسے بھی مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہیے۔ بی جے پی اس وقت تک یہ تو سمجھ چکی ہے کہ ہندوتوا کے نام پر اب اقتدار نہیں حاصل کیا جا سکتا۔ ہندوستان میں 18 کروڑ مسلم آباد ہیں۔ اسے یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ نظریے کی بنیاد پر وہ اتنی بڑی برادری کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ دور انڈیا کی سیاست میں تغیر کا دور ہے۔ اس سیاسی تغیر میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ بی جے پی کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانی ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں