’سب سے سستا‘ سمارٹ فون متعارف کروانے والا انڈین تاجر گرفتار

موہت گوئل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

موہت گوئل کے خلاف بہت سے لوگوں نے دھوکہ دہی کی شکایت درج کروائی ہے

انڈیا میں ضلع غازی آباد کی پولیس نے دنیا کا سب سے سستا سمارٹ فون متعارف کروانے کا دعویٰ کرنے والی کمپنی کے سربراہ کو دھوکہ دہی کے الزام کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔

موہت گوئل کی گرفتاری اس فون کی ایک تقسیم کار کمپنی کی جانب سے ان پر رقم وصول کرنے اور اس کے عوض فون فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد عمل میں آئی ہے۔

اتر پردیش پولیس کے ترجمان راہل شریواستو نے موہت گوئل کی گرفتاری کی تصدیق کی.

انھوں نے بی بی سی کو بتایا،'ریاست کے کئی اور علاقوں سے بھی ان کے خلاف کچھ شکایتیں آئی ہیں۔ ہم تمام الزامات کی تحقیقات کریں گے۔'

فریڈم 251 نامی اس فون کی قیمت صرف 251 روپے ہے اور اسے فروری 2016 میں پہلی بار فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا تاہم موہت کی رنگنگ بیلز نامی کمپنی پر بہت سے آرڈر پورے نہ کرنے کا الزام ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

رنگنگ بیلز نے اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے سستا فون فروخت کرے گی جس کی قیمت محض 251 روپے ہوگي

پولیس ترجمان نے کہا، 'ہمارے لیے ضروری ہے کہ دھوکہ دہی کے ایسے معاملات کی مکمل تحقیقات کریں کیونکہ عام آدمی کے خون پسینے کی کمائی کا نقصان ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں آج کل زیادہ فراڈ سامنے آ رہے ہیں۔'

انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اس طرح کی سکیموں میں پیسے پھنسانے سے پہلے اس کی مکمل تحقیقات کر لیں۔'آج موبائل فون فروخت کیے جا رہے ہیں، کل سستے ایئرکنڈیشنر بھی ہو سکتے ہیں۔'۔'

رنگنگ بیلز نے اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے سستا فون فروخت کرے گی جس کی قیمت محض 251 روپے ہوگي۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

فون لانچ کے بعد کمپنی نے دعوی کیا تھا کہ تقریبا سات کروڑ لوگوں نے اس کے لیے رجسٹر کیا تھا

کمپنی نے اس کے لیے اپنی ویب سائٹ پر لوگوں سے آرڈر لینا شروع کر دیے تھے اور اسے گذشتہ جون تک مہیا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن کمپنی اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکی۔

اس کے بعد کمپنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2016 کے نومبر تک 2 لاکھ فون گاہکوں فراہم کر سکےگی لیکن کمپنی نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔

فون لانچ کے بعد کمپنی نے دعوی کیا تھا کہ تقریبا سات کروڑ لوگوں نے اس کے لیے رجسٹر کیا تھا۔

اس سے پہلے بھارتی جنتا پارٹی کے ایک رکن پارلیمان کرت سمیّہ نے 251 روپے میں فون دینے کی پیشکش کو ایک فراڈ سکیم بتایا تھا۔ انھوں نے کہا تھا: 'مجھے 110 فیصد یقین ہے کہ یہ ایک پونزی کمپنی کا بڑا فراڈ ہے۔‘