نیپال میں روہنگیا پناہ گزین واپسی کے امیدوار

کھٹمنڈو میں کچھ روہنگیا پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ اگر اقوام متحدہ ان کی مدد کرے تو وہ گھر واپس جانے کو تیار ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ چند ماہ میں دسیوں ہزار روہنگیا میانمار چھوڑ کر آئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔ تاہم ان میں کچھ چند برس پہلے نیپال آگئے تھے جنھیں اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

نیپال میں حکام کا اندازہ ہے کہ دو بستیوں میں تقریباً 200 کے قریب روہنگیا رہتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

عامر حسین (بائیں) اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ 2012 میں تین ماہ تک پیدل چل کر نیپال پہنچے تھے۔ وہ ان 200 روہنگیا میں سے ہیں جو کہ نیپال میں پناہ مانگ کر رہے ہیں۔

،تصویر کا کیپشن

روہنگیا کا کہنا ہے کہ ان کی ساری بستی مل کر تقریباً سات سو ڈالر کرایہ سالانہ دیتے ہیں۔انھیں شکایت ہے کہ ان کا کرایہ سالانہ دس فیصد بڑھتا ہے جبکہ یو این ایچ سی آر نے ان کا وظیفہ کم کر دیا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

نیپال صرف تبّت اور بھوٹان سے آنے والوں کو پناہ گزین تصور کرتا ہے۔ دیگر ممالک سے آنے والے افراد کو غیر قانونی تارکینِ وطن مانا جاتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

نیپال کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں کہ جو بھی پناہ مانگے اسے خوراک اور رہائش دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت شہری علاقوں میں پناہ گزینوں کے حوالے سے قانون سازی کر رہی ہے۔

،تصویر کا کیپشن

کھٹمنڈو کے یو این ایچ سی آر دفتر نے آیت اللہ آیت اللہ (بائیں) کو نیپال میں پناہ دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انھیں مالی مدد دی جائے تو وہ واپس جانے کو تیار ہیں۔