انڈیا میں نفرت پھیلانے کے الزام میں مقامی نیوز چینل کے ایڈیٹر گرفتار

سریش چوہانکے

،تصویر کا ذریعہSURESH CHAVHANKE

،تصویر کا کیپشن

سریش چوهانکے نے 13 اپریل کو سنبھل کے کی ایک مسجد میں جا کر ماتھا ٹیکنے کا اعلان کیا تھا

انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں پولیس نے ایک نیوز چینل ’سدرشن نیوز‘ کے ایڈیٹر سریش چوہانکے کو لکھنؤ ایئرپورٹ سے گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق سریش چوہانکے پر فرقوں کے درمیان نفرت پھیلانے، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور افواہیں پھیلانے کے الزامات ہیں۔

اتر پردیش کے علاقے سنبھل کے پولیس سپرنٹنڈنٹ روی شنکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چوہانکے کی گرفتاری کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان پر سنبھل میں تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے، 259 اے اور 505 (1 A) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اپنی گرفتاری پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سریش چوہان نے بی بی سی سے کہا،’مجھ پر بے بنیاد ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔‘

سریش چوهانکے پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے چینل پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب والی خبریں نشر کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSURESH CHAVHANKE

،تصویر کا کیپشن

اتر پردیش کے وزیر یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ سریش چوهانکے

چوہانکے کا کہنا تھا ’جن لوگوں پر غداری کے الزامات ہیں وہ باہر ہیں اور ایک قوم پرست صحافی گرفتار ہے۔‘

سریش چوهانکے نے 13 اپریل کو سنبھل کے کی ایک مسجد میں جا کر ماتھا ٹیکنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایک مقامی کانگریسی لیڈر عترت حسین بابر نے چوہانکے کے سنبھل پہنچنے کی صورت میں ان پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

پولیس نے خود کو شہر کی جامع مسجد کا امام بتانے والے بابر کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے. ایک مقامی بی جے پی لیڈر کا نام بھی ایف آئی آر میں ہے.

شہر میں کشیدگی کے پیش نظر بھاری پولیس فورس تعینات کئے گئے ہیں.