کشمیر کے ضمنی انتخابات میں صرف دو فیصد پولنگ

کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

انتخابات کے لیے کشمیر زبردست سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے

انڈیا میں انتخابی کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سرینگر کی لوک سبھا سیٹ کے لیے ہونے والے ضمنی انتخاب میں 38 پولنگ مراکز پر دوبارہ ووٹنگ میں صرف دو فیصد ووٹڈالے گئے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے دوران اس بار جتنی کم پولنگ ہوئی ہے اس سے قبل اتنی کم کبھی نہیں ہوئی تھی۔

سری نگر کی پارلیمانی سیٹ کے لیے ضمنی انتخابات میں ریاست کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔

سرینگر کی پارلیمانی نشست سرینگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع پر مشتمل ہے۔ 30 سال میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ یہاں لوگوں نے پولنگ مراکز کا رُخ نہیں کیا اور پرتشدد مظاہرے بھی ہوئے۔

ضمنی انتخابات کے نتائج 15 اپریل کو آئیں گے۔

اس سیٹ کے لیے گذشتہ اتوار کو پولنگ ہوئی تھی جس میں تقریبا سات فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالا تھا۔ لیکن ووٹنگ کے دوران زبردست تشدد ہوا تھا جس میں آٹھ نوجوان سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

اتوار کو پولنگ کے دوران مظاہرین نے زبردست سنگ بازی کی تھی اور کئی پولنگ مراکز کو آگ لگا دی گئی تھی

اسی وجہ سے حکام نے 38 پولنگ مراکز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا تھا تاہم بیشتر لوگ ووٹ ڈالنے نہیں نکلے۔

کشمیر کے علحیدگی پسند رہنماؤں نے انڈیا کے خلاف بطور احتجاج انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس بار وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اتوار کو علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کی اپیل کے درمیان سرینگر، بڈگام اور گاندر بل جیسے علاقوں میں مظاہرین زبردست سنگ بازی کی تھی اور کئی پولنگ مراکز کو آگ لگا دی گئی تھی۔

مبصرین کے مطابق کشمیر میں عموما ویسے بھی پولنگ کم ہوتی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ لوگ تقریبا ووٹ ڈالنے ہی نہیں نکلے۔

ماہرین کے مطابق گذشتہ 30 برسوں میں پہلی بار ووٹنگ کی شرح نہایت کم رہی اور الیکشن پر علیحدگی پسندوں کی طرف سے دی گئی بائیکاٹ کی کال کا اثر حاوی رہا۔