انڈیا میں نصابی کتب میں خواتین کے جسمانی خد و خال پر تنازع

کتاب

انڈیا میں وزیر برائے تعلیم نے نصابی کتاب میں خواتین کے جسمانی خد و خال میں 36، 24 اور 36کو بہترین فگرز قرار دینے کی تفتیش شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیر پرکاش جاویدکر نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ 'جنسی تفریق’ کرنے والی کتاب کی سختی سے مذمت کرتے ہیں اور اسی لیے اس کے خلاف 'مناسب کارروائی' کرنے کا کہا ہے۔

سنیپ شاٹس سے لیے گیا اس کتاب کا متن سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گردش کرنے لگا۔

انڈیا میں اس کتاب کو ایک غیر سرکاری ناشر نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب کچھ سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے جو سینٹرل بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی پیروی کرتے ہیں۔

اس کتاب میں بھی بتایا گیا ہے کہ 'خواتین کے کولھوں کی ہڈیاں چوڑی ہوتی ہیں جب کہ گھٹنے کچھ حد تک الگ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مناسب طریقے سے بھاگنے کے قابل نہیں ہوتیں۔'

دوسری جانب سی بی ایس ای کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ پرائیوٹ طور پر شائع ہونے والی نصابی کتب کی نگرانی کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ انڈیا کا نصابی بورڈ صرف نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کی جانب سے شائع کی جانے والی کتابوں کی سفارش کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اب سکولوں پر منحصر ہے کہ وہ پرائیوٹ طور پر پڑھائی جانے والی نصابی کتب کو استعمال کرنے میں احتیاط برتیں۔

پرکاش جاویدکر کا کہنا ہے کہ سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس کتاب کو پڑھانا بند کریں۔

ادھر اس کتاب کو شائع کرنے والے نئی دہلی کے پبلشر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے فوری طور پر اس کتاب کی چھپائی، فروخت اور تقسیم کو روک دیا ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا میں نصابی کتب کے حوالے سے تنازعات غیر معمولی نہیں ہیں۔

انڈیا میں فروری میں ایک نصابی کتاب کی اشاعت کے بعد تنازع شروع ہو گیا تھا جس میں بچوں کو بلی کے بچوں کو مارنے کے بارے میں بتایا گیا۔

سنہ 2014 میں انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں شائع ہونے والے ایک کتاب نے اس وقت شہ سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جاپان نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکہ پر ایٹم بم گرایا تھا۔