’ننگرہار میں بموں کی ماں سے دولت اسلامیہ کے 90 جنگجو ہلاک: افغان حکام

،ویڈیو کیپشن

’بموں کی ماں‘

افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے سب سے بڑے بم گرائے جانے کے باعث شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے 90 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم دولت اسلامیہ نے افغان حکومت کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن نے صوبہ ننگرہار میں سرنگوں کے نظام کو 9800 کلوگرام وزنی بم سے ہدف بنانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ بم عسکری فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔

یاد رہے کہ جمعہ کو افغان حکام کا کہنا تھا کہ اس حملے میں کم از کم 36 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

وادی مومند کے علاقے میں یہ بم گرایا گیا جہاں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کا سرنگوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔

امریکی فوج نے جمعرات کی شام کو افغانستان میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے ٹھکانے پر 9800 کلوگرام وزنی بم گرایا تھا۔

امریکی فوج کے مطابق یہ بم صوبہ ننگرہار میں واقع دولت اسلامیہ کا سرنگوں پر مبنی کمپلیکس پر گرایا گیا۔

جی بی یو 43/بی نامی اس بم کو 'بموں کی ماں' کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے جو امریکہ نے کسی بھی کارروائی میں استعمال کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

اس بم کا تجربہ پہلی بار 2003 میں کیا گیا تھا لیکن اسے کسی جنگ یا تصادم میں اس سے قبل استعمال نہیں کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا تھا کہ 'ہم نے داعش کی سرنگوں اور غاروں کے نظام کو ٹارگٹ کیا جن کے ذریعے جنگجو آزادانہ طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے تھے۔ اور انھی سرنگوں کے باعث وہ آسانی سے امریکی مشیروں اور افغان فورسز کو نشانہ بنا سکتے تھے۔'

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں یہ بم گرایا گیا ہے وہ پہاڑی علاقہ ہے اور بہت کم آبادی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بم کی آواز اتنی بلند تھی کہ اس کو دو اضلاع دور بھی سنا گیا۔

امریکہ نے یہ کارروائی ایسے وقت کی جب گذشتہ ہفتے ہی ننگرہار میں دولت اسلامیہ کے ساتھ جھڑپ میں امریکی سپیشل فورسز کا ایک فوجی ہلاک ہوا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد 1000 سے 5000 تک ہو سکتی ہے۔