چین اور نیپال نے پہلی مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا

چینی فوجی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چین اور نیپال نے اتوار کو پہلی بار مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں جس سے اندیشہ ہے کہ انڈیا کو چین کی خطہ میں بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے بے چینی ہوگی۔

خطہ کا ایک غریب ملک، نیپال اپنے دو طاقتور پڑوسی ممالک کے بیچ میں واقع ہے اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے وہاں اپنی برتری قائم کرنے کی کوششیں ہیں۔

دس دن جاری رہنے والی یہ فوجی مشقیں سگر ماتھا دوستی 2017 کا نام سے جاری ہیں۔ نیپالی زبان میں دنیا کے سب سے بڑے پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کو سگرماتھا بلایا جاتا ہے۔

نیپالی فوج کے مطابق ان مشقوں کی توجہ انسداد دہشت گردی کی تربیت پر ہوگا۔

نیپالی فوج کے ترجمان جھنکر بہادر کدیات نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'ہماری کوشش رہی ہے کہ ہم ان ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کریں جن کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات ہیں۔'

انڈیا، جس پر پہلے سے ہی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے پڑوسی ملک پر دھونس جماتا ہے، وہ ان مشقوں کو بغور دیکھا رہا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

چین کے وزیر دفاع جانگ فان کوان نے نیپال کا دورہ کیا تھا جو کہ گذشتہ 15 سالوں پہلا ایسا دورہ تھا

واضح رہے کہ چاروں طرف زمین سے گِھرا ہونے کے سبب نیپال کی تمام درآمدات کا انحصار انڈیا پر ہے لیکن نیپال کی سابق حکومت نے چین سے دوستی بڑھانے کی کافی کوششیں کی تھیں تاکہ ان کا انڈیا پر انحصار کم ہو جائے۔

نیپال کے چین میں متعین سابق سفیر ٹانکا کارکی نے کہا کہ 'نیپال اور چین کے اچھے تعلقات ہیں اور یہ مشترکہ فوجی مشقیں اس تعلقات کو مزید مضبوط کریں گی۔'

پچھلے ماہ چین کے وزیر دفاع جانگ فان کوان نے نیپال کا دورہ کیا تھا جو کہ 15 سالوں پہلا ایسا دورہ تھا۔ اس ملاقات میں ان فوجی مشقوں کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔

نیپال کی موجودہ حکومت ایک دفعہ پھر انڈیا سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن چین سے بھی وہ امداد لے رہی ہے۔

حال ہی میں چین نے نیپال میں آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جو کہ ملک کی مجموعی پیداوار کا 40 فیصد ہے۔

انڈیا نے نیپال میں 317 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیش کش کی ہے۔