کشمیر: انڈین فوج کا جھڑپ میں چار 'شدت پسندوں' کی ہلاکت کا دعوی

  • ریاض مسرور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈین فوجی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشن

گذشتہ ایک ہفتے میں اب تک ایک درجن سے زیادہ شدت پسند مختلف آپریشنوں میں مارے جا چکے ہیں

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک حملے کو ناکام بناتے ہوئے چار غیرکشمیری شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے، ان ہلاکتوں کے بعد بانڈی پورہ میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

انڈین فوج نے دعوی کیا ہے کہ پیر کی صبح کشمیر کے شمالی ضلع بانڈی پورہ میں فورسز پر خود کش حملہ کرنے والے چار مسلح شدت پسندوں کو مختصر جھڑپ کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مارے جانے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم پولیس اور فوج کا دعوی ہے کہ چاروں پاکستانی شدت پسند ہیں۔

تاہم پاکستان کا اس دعوے پر تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

ان ہلاکتوں کے بعد بانڈی پورہ کے نائد کھائے، سُنبل اور حاجن علاقوں میں لوگوں نے حکومت مخالف مظاہرے کیے۔ اس سے قبل ہفتے کو جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ علاقے میں حزب المجاہدین کے حملہ آوروں نے فوجی قافلے پر فائرنگ کی تھی جس میں دو فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے تھے۔

27 مئی کو حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار احمد اور اس کے ساتھی فیضان کی ہلاکت کے بعد سے اب تک ایک درجن سے زیادہ شدت پسند مختلف آپریشنوں میں مارے جا چکے ہیں۔

واضح رہے سبزار کی ہلاکت کے بعد کئی روز تک وادی میں کرفیو اور ہڑتال رہی جبکہ اس دوران جگہ جگہ لوگوں نے مظاہرے کیے۔ مظاہرین کےخلاف فورسز کی کاروائیوں میں ایک نوجوان مارا گیا جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

کشمیر میں سبزار بٹ کی ہلاکت کے بعد متعدد مقامات پر انڈین سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں

سنیچر کو سرینگر میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر پر ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے کی تھی۔ کانفرنس کے دوران ایل او سی اور کشمیر کے اندرونی علاقوں میں مسلح شدت پسندوں کی بڑھتی سرگرمیوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی مرتب کی گئی۔ اس دوران ایسے 12 مسلح کمانڈروں کی فہرست جاری کی گئی جن کے بارے میں حزب المجاہدین یا لشکر طیبہ کے ساتھ وابستگی کا دعوی کیا گيا۔ فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو بتایا گیا کہ 'اس گرما کے دوران ان سب کے خلاف کاروائی کی جائے۔'

انڈین حکومت باربار یہ اصرار کرتی ہے کہ پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کو مشتعل کررہا ہے اور غیرقانونی چینیلز سے علیحدگی پسندوں کو بھاری رقومات بھیجی جارہی ہیں۔

اس سلسلے میں پہلے ہی حکومت ہند کے مشترکہ تفتیشی ادارے نیشنل انوسٹگیشن ایجنسی یا این آئی اے نے تین حریت رہنماوں کی نئی دلی میں پوچھ گچھ کی ہے۔ سنیچر کوبھی این آئی اے کے اہلکاروں نے سرینگر اور اس کے اطراف میں متعدد حریت رہنماوں اور تاجروں کے گھروں میں چھاپے مارے۔