انڈیا میں این ڈی ٹی وی پر چھاپوں کے بعد آزاد میڈیا پر بحث

  • سہیل حلیم
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
پرنائے رائے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پرنائے رائے کو ملک میں ٹی وی نیوز جرنلزم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے

انڈیا میں نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے دفاتر اور اس کے مالکان کےگھروں پر سی بی آئی کے چھاپوں سے ملک میں میڈیا کی آزادی پر بحث چھڑگئی ہے۔ چینل کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف عائد نادہندگی کے الزامات بالکل بے بنیاد ہیں جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی سی بی آئی نے اپنی معلومات کی بنیاد پر کی ہے اور اس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

مرکزی تفتیشی بیورو نے این ڈی ٹی کے مالکان ڈاکٹر پرنائے روائے اور ان کی اہلیہ رادھیکا رائے کے گھروں اور چینل کے دفاتر پر پیر کی صبح چھاپے مارے تھے۔

پرنائے رائے کو ملک میں ٹی وی نیوز جرنلزم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ انھوں نے ایک پرائیویٹ بینک سے قرض لیا تھا اور بینک کے ملازمین کے ساتھ مل کر اسے اڑتالیس کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔ این ڈی ٹی وی کا دعویٰ ہے کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور اسے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے سینیر اینکر رویش کمار نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ ’دلی میں آپ کو دو طرح کے صحافی ملیں گے، ایک وہ جو ڈرے ہوئے ہیں اور ایک وہ جنہیں ڈرایا جا رہا ہے۔۔۔ کچھ لوگوں کو ڈرنے کی بھاری قیمت ادا کی جارہی ہے۔۔۔ لیکن این ڈی ٹی وی کی آواز خاموش نہیں کی جاسکتی۔‘

این ڈی ٹی وی اور حکمران بی جے پی کے درمیان تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں اور حکومت پہلے بھی اس کے ہندی چینل کے خلاف کارروائی کر چکی ہے۔ چند روز قبل مویشیوں کی منڈیوں میں ذبیحے کے لیے جانوروں کی فروخت پر پابندی سے متعلق فیصلے پر ایک بحث کے دوران این ڈی ٹی وی کی اینکر ندھی رازدان نے بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا سے کہا تھا کہ وہ یا تو ان کے شو سے چلے جائیں یا چینل پر یہ الزام لگانے کے لیے معافی مانگیں کہ وہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

شیکھر گپتا نے کہا کہ میڈیا کے لیے پیغام واضح ہے، مزاحمت کرنی ہے تو اس کے مضمرات بھی برداشت کرنے ہوں گے

سی بی آئی کے چھاپوں پر سینیئر مدیران نے سخت تنقید کی ہے۔ ان کی تنظیم ایڈیٹرز گلڈ نے کہا کہ وہ پریس کی آواز دبانے کی کسی بھی کوشش کی سخت مذمت کرتی ہے۔

سینیئر صحافی شیکھر گپتا نے کہا کہ میڈیا کے لیے پیغام واضح ہے، مزاحمت کرنی ہے تو اس کے مضمرات بھی برداشت کرنے ہوں گے۔

کچھ صافحیوں نے ان چھاپوں کا موازنہ ایمرجنسی کے دور سے کیا ہے جب ملک میں پہلی اور آخری مرتبہ سینسر شپ نافذ کی گئی تھی۔ ان میں سینیئر صحافی پروین سوامی بھی شامل ہیں۔

سیاسی جماعتوں نے بھی سی بی آئی کے چھاپوں کو سیاسی محرکات پر مبنی بتایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

عام آدمی پارٹی کے لیڈر آشوتوش نے کہا کہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے اور مقصد میڈیا کی آواز کو دبانا ہے

کانگریس کے ترجمان اجے ماکن نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت خوف کا ماحول بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ میڈیا کی آزادی پر بڑا حملہ ہے۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈر آشوتوش نے کہا کہ یہ ایک خطرناک کھیل ہے اور مقصد میڈیا کی آواز کو دبانا ہے۔ آشوتوش خود سیاست میں آنے سے پہلے ایک سینیئر ایڈیٹر تھے۔

لیکن بی جے پی کے وفاقی وزیر وینکیا نائڈو نے کہا کہ ملک میں میڈیا جو چاہے لکھنے کے لیے آزاد ہے لیکن اگر کوئی قانون توڑتا ہے تو اس کےخلاف کارروائی ہونی چاہیے چاہے وہ صحافی ہو یا کوئی اور۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں تین سال مکمل کر لیے ہیں لیکن ابھی تک ایک بھی پریس کانفرنس سے خطاب نہیں کیا ہے۔ انڈیا میں آجکل میڈیا میں بھی کھلے عام جنگ جاری ہے اور چینل ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

ایک حلقے کا الزام ہے کہ کچھ چینل بکے ہوئے ہیں اور آنکھیں بند کرکے حکومت کی حمایت کرتے ہیں، جواب میں ان کا الزام ہے کہ یہ الزام لگانے والے چینل خود ملک کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔