سرینگر کی جامع مسجد کے باہر پولیس افسر کو مار مار کے ہلاک کر دیا گیا

  • ریاض مسرور
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
نوہٹہ کی تاریخی جامع مسجد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

کشمیر کے شہر سری نگر کے نوہٹہ علاقے میں واقع اسی تاریخی جامع مسجد کے باہر لنچنگ کا واقع پیش آيا

انڈيا کے زیرانتظام کشمیر میں جمعرات کی شب لوگوں نے تاریخی جامع مسجد کے باہر تعینات ایک پولیس افسر کو مار مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

پولیس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر مشتعل ہجوم نے محمد ایوب پنڈت نامی ایک پولیس افسر کو دبوچ کر اس قدر مارا پیٹا کہ ان کی موت ہوگئی۔

پولیس حکام نے اعتراف کیا ہے کہ پولیس افسر وردی کے بغیر جامع مسجد کے باہر 'اینٹی سبوتاژ' یعنی انسداد تخریب کاری کی ڈیوٹی پر تعینات تھے۔

سرینگر کے علاقے نوہٹہ میں واقع یہ صدیوں پرانی جامع مسجد علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر کا موروثی پلیٹ فارم ہے جہاں وہ مذہبی و سیاسی امور سے متعلق لوگوں اور اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہیں۔

پولیس ترجمان منوج کمار نے ایک مختصر بیان میں کہا 'ڈیوٹی کے دوران ایک اور پولیس افسر کو ہجوم نے نوہٹہ میں مار پیٹ کے ذریعے ہلاک کیا۔'

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محمد ایوب پنڈت مسجد کے صدر دروازے پر تلاشی کے لیے تعینات پولیس کے انچارج تھے۔

لیکن نوہٹہ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات ہزاروں لوگ جامع مسجد میں عبادت کے لیے داخل ہوئے اور جامہ تلاشی کے لیے مسجد کی انتظامیہ کے کارکن وہاں پر موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA

دیگر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں نے جب بغیر وردی کے مسلح شخص کو دیکھا تو وہ اس پر جھپٹ پڑے جس پر ایوب نے سائلنسر لگی پستول سے فائر کیا اس کی وجہ سے دو نوجوان زخمی ہوگئے۔

اس کے بعد مشتعل ہجوم نے ایوب کو پکڑ لیا اور مار پیٹ کے دوران ان کی موت ہوگئی۔

اس ہلاکت کے خلاف سیاسی اور سماجی حلقوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک بیان میں کہا: 'پورے ملک میں ہماری پولیس بہترین فورس ہے۔ ہماری پولیس نہایت ضبط اور تحمل کے ساتھ کام کرتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کا سابقہ ان کے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ ہے۔'

سابق وزیر اعلی عمرعبداللہ نے ٹویٹ کیا: 'ایوب کی موت ایک صدمہ ہے، اور جن حالات میں یہ موت ہوئی وہ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ خدا کرے ایوب کے قاتل اپنے گناہوں کے عوض جہنم میں داخل ہوں۔'

واضح رہے کہ کشمیر کی مقامی پولیس کے خلاف نہ صرف عوامی سطح پر غم و غصہ بڑھ گیا ہے بلکہ مسلح شدت پسندوں نے بھی ان پر حملوں میں شدت لائی ہے۔