پاکستان نہیں چین ہے انڈیا کے جوہری بموں کے نشانے پر

میزائل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حال ہی میں ایک مشق کے دوران خلیج بنگال myz چینئی کے علاقے میں آئی این ایس رنویر سے چھوڑے جانے والے میزائل کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

دنیا میں ایٹمی پروگراموں پر نظر رکھنے والے امریکہ کے دو سرکردہ جوہری ماہرین کے مطابق انڈیا اپنے جوہری ہتھیاروں کی مسلسل جدید کاری اور توسیع کر رہا ہے اور اس کی جوہری تیاریوں کے نشانے پر اب پاکستان نہیں بلکہ چین ہے۔

جوہری سرگرمیوں کے بارے میں تجزیہ کرنے والے جریدے 'آفٹر مڈ نائٹ' کے تازہ ترین شمارے میں شائع ایک مضون میں ہینز ایم کرسٹینسین اور رابرٹ ایس نوریس نے یہ بھی بتایا ہے کہ انڈیا اب طویل فاصلے تک مار کرنے والا ایک ایسا جوہری میزائل بنانے میں مصروف ہے جس سے وہ جنوبی انڈیا سے چین کے کسی بھی علاقے کو ہدف بنا سکتا ہے۔

٭ انڈیا کا ایٹمی بین البراعظمی میزائل کا تجربہ

٭ انڈیا ایک خفیہ جوہری شہر تعمیر کر رہا ہے: پاکستانی دفتر خارجہ

٭ انڈین وزیر دفاع کا جوہری بم کا نیا فارمولہ

انڈیا کے بارے اندازہ ہے کہ اس نے جوہری بم بنانے والی تقریباً 600 کلو گرام پلوٹونیم تیار کر لی ہے۔

جوہری سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اتنی پلوٹونیم ڈیڑھ سو سے دو سو بم بنانے کے لیے کافی ہے۔

دونوں ماہرین کا کہنا ہے 'جوہری بم گرانے والے جنگی جہازوں اور میزائلوں کے بارے میں دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہمارا یہ اندازہ ہے کہ انڈیا نے 120 سے 130 کی تعداد میں ایٹم بم بنائے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہاں انڈیا کے سمرچ راکٹ لانچر کو دیکھا جا سکتا ہے جسے یوم جمہوریہ کے موقعے پر ایک فوجی سلامی دے رہا ہے

دوسری جانب انڈیا مختلف فاصلوں تک جانے والے کئی جوہری صلاحیت والے میزائلوں کی تیاری میں مصروف ہے اور انھیں جوہری بموں سے لیس کرنے کے لیے انڈیا کو مزید بم بنانے ہوں گے۔

ممبئی کے قریب دھرووا ری ایکٹر میں پلوٹونیم تیار کی جاتی ہے اب وہ پلوٹونیم کے لیے مبینہ طور پر دو اضافی ری ایکٹر تعمیر کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو میں قائم کلاپکّم جوہری تنصیب میں اندرا گاندھی سینٹر فار اٹامک ریسرچ میں 'فاسٹ بریڈر ری ایکٹر' کی تعمیر سے مستقبل میں جوہری بم میں استعمال ہونے والی پلوٹونیم تیار کرنے کی انڈیا کی صلاحیت میں کافی اضافہ ہو گا۔

امریکہ کے جوہری ماہرین نے اس مضمون میں لکھا ہے کہ انڈیا کا پروگرام روایتی طور پر پاکستان کو جوہری حملے سے روکنے کے گرد مرکوز رہا ہے لیکن اب وہ جس نوعیت کی جوہری توسیع اور جدید کاری کر رہا ہے اس سے واضح عندیہ ملتا ہے کہ اس کی حمکت عملی اب چین پر مرکوز ہو رہی ہے۔

ایک محقق کا خیال ہے کہ چین کے کسی جوہری حملے کا یقینی طور پر جواب دینے کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے انڈیا آنے والے دنوں میں اور زیادہ کارگر اور وسیع حکمت عملی اختیار کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا نے میزائل اگنی-5 کو اپنے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں شامل کیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار کلومیٹر تک وار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

ہینز ایم کرسٹینسین اور رابرٹ ایس نوریس نے اس مضمون میں لکھا ہے کہ جوہری بم گرانے کے لیے انڈیا کے پاس اس وقت سات طرح کے دفاعی نظام ہیں۔ ان میں دو جنگی طیارے جیگوار اور میراج 2000 ہیں۔ روسی ساخت کے سوخوئی اور مگ 27 کے بارے میں بھی کئی ماہرین کا خیال ہے کہ انھیں بھی ایٹمی ہتھیار کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن کا اس کا امکان کم ہے۔

اس کے علاوہ انڈیا نے مختلف فاصلوں تک جانے والے زمین سے زمین پر مار کرنے والے چار بیلسٹک میزائل بنا رکھے ہیں۔ ایک بیلسٹک میزائل سمندر کے نیچے آبدوز سے لانچ کیا جاتا ہے۔ پرتھوی-2، اگنی-1، اگنی-2 اور اگنی-3 جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت والے میزائل ہیں اور یہ پہلے ہی انڈین فوج کی کمان میں ہیں۔

انڈیا اگنی-4 کے کئی تجربے کر چکا ہے اور یہ جلد ہی استمعال میں آ جائے گا۔ یہ بیلسٹک میزائل ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کی دوری تک کسی ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انڈیا کے شمال مشرقی خطے میں اسے نصب کیے جانے سے بیجنگ اور شنگھائی سمیت پورا چین اس کی زد میں ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کا آئی این ایس چینئی جنگی جہاز ڈاک سے نکل کر پانیوں میں آ چکا ہے

دفاعی تحقیق کا ادارہ ڈی آر ڈی او 5000 کلومیٹر کی دوری تک وار کرنے والا بین براعظمی بیلسٹک میزائل اگنی 5 بھی تیار کر رہا ہے۔ حملے کے لیے اضافی فاصلے کی صلاحیت سے اگنی-5 کو انڈیا کی جنوبی ریاستوں میں تعینات کیا جا سکتا ہے جہاں سے وہ چین کے کسی بھی خطے کو ہدف بنا سکتا ہے اور ساتھ ہی وہ چین کے جوابی وار سے بھی کافی دور ہو گا۔

اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ انڈیا نے اگنی-6 پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں ہیں۔ لیکن حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں دعوی کیا گیا تھا کہ یہ میزائل 8000 سے 10000 کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے اور اسے آبدوز اور زمین دونوں جگہ سے لانچ کیا جا سکے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں