کیا کشمیر کا مسئلہ اب دھندلا پڑ گیا ہے؟

  • زبیر احمد
  • بی بی سی، سرینگر
کشمیر

،تصویر کا ذریعہAFP

حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر علیحدگی پسند حریت کانفرنس نے مظاہروں کا ایک کیلنڈر جاری کیا تھا جس میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں سے کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ اور دوسری بین الاقوامی ایجنسیوں تک پہنچانے کی اپیل کی گئی تھی۔

حریت کی اس اپیل کا اثر کہیں دیکھنے کو نہیں ملا۔ تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے ضرور ہوئے۔

برطانیہ کے شہر برمنگھم میں برہان وانی کے حق میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو ریلی نکالنے کی اجازت دی گئی تھی لیکن بھارتی ہائی کمیشن کی مخالفت کے بعد وہ بھی واپس لے لی گئی۔

بین الاقوامی مسئلہ

ایسا لگتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اب انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔

ایک زمانہ تھا جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسندی کا مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ سنہ 1990 کی دہائی میں بین الاقوامی فورم پر اس مسئلے پر آواز اٹھائی جاتی تھی۔

پاکستان اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے میں اکثر کامیاب بھی ہوا تھا۔ عرب ممالک بھی کشمیریوں کے حق میں بیان دیا کرتے تھے۔ اس مسئلے کو تقریباً ویسی ہی توجہ دی جاتی تھی جیسی کہ فلسطینی مسئلے کو۔

لیکن اب حالات بدلے سے نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اب بین الاقوامی برادری نے سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

انڈیا مخالف مظاہرے

سری نگر میں سیاسی تجزیہ کار پی جے رسول کشمیر کے معاملے پر لکھتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر جو حالات ہیں، وہ پہلے سے بھی خراب ہیں۔ پاکستان تو اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے اور اس کی بین الاقوامی ساکھ پہلے سے بھی نیچے گر چکی ہے۔‘

برہان وانی کی پہلی برسی پر سڑکوں پر مظاہرین ضرور نکل آئے تھے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں تھیں لیکن ان کے انڈیا مخالف مظاہرے اس بار کچھ دھندلے سے نظر آئے۔

یہ بات بھی درست تھی کہ انتظامیہ نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔

حریت کے لیڈروں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر رکھا تھا اور وانی کے قصبے ترال کو چاروں طرف سے سیل کر دیا تھا، مگر گ۔شتہ سال کے مقابلے میں اس بار عام لوگوں میں جوش بہت کم تھا۔

برہان وانی کی برسی

گذشتہ سال سات جولائی کو برہان وانی کے پولیس تصادم میں مارے جانے کے بعد ان کے جنازے میں لوگوں کا ایک سیلاب امنڈ آیا تھا۔ اس کے بعد ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں 89 مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

بہت سے لوگ پیلٹ گن سے زخمی ہونے کی وجہ سے معزور ہو گئے تھے لیکن ان کی موت کی پہلی برسی پر حریت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی اپیل کا اثر بہت کم نظر آیا۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ دھندلا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ رسول کے مطابق آزادی کا مقصد پورا نہیں ہوا۔

بی جے پی لیڈر حنا بٹ کہتی ہیں، ’پاکستان کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اس کو ایک شدت پسند ملک مانا جا رہا ہے تو وہ کس طرح کشمیر کی حمایت اور کشمیر کی بات کر سکتا ہے۔ دیگر ممالک میں بھی وہ انتہا پسندی کے دائرے میں آ چکا ہے۔ وہ کشمیر کا مسئلہ کس طرح اٹھا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP

کشمیریوں کی قسمت

حریت کے لیڈروں سے بات کرنے کی کوشش ناکام رہی۔ پولیس نے نظر بند رہنماؤں سے کسی کو ملنے نہیں دیا۔

لیکن ان کے حامی کہتے ہیں کہ کشمیر کی تحریک زندہ ہے۔ اگر دنیا اسے بھول بھی جائے تو کشمیریوں میں ان کی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

ان لیڈروں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت ان کی تحریک کو کچلنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت کشمیر میں طاقت کے بل پر حکومت کر رہا ہے۔

بھارت پاکستان میں سرگرم شدت پسند تنظیموں پر نوجوانوں کو اکسانے کا الزام لگاتا ہے۔ پاکستان اس سے انکار کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

جمہوریت میں عوام

جموں اور کشمیر پولیس کے ڈی جی پی ایس پی وید کہتے ہیں ’میں کہتا ہوں سب سے زیادہ کہیں آزادی ہے تو وہ ہندوستان میں ہے۔ مجھے نہیں معلوم کون سی آزادی ہم مانگ رہے ہیں۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اگر کسی کو اپنی بات کہنی ہو تو جمہوریت مکمل اجازت دیتی ہے۔ آپ اپنا نظریہ ضرور رکھیں لیکن ہتھیار اٹھائے بغیر امن سے۔

رسول کے مطابق انڈیا کا اثر دنیا میں کافی بڑھ چکا ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی برادری بھی اب دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔

کشمیر کا مسئلہ اب بھی بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کو پہلے جیسی حمایت اب حاصل نہیں۔