قندہار: طالبان کے ہاتھوں مغوی بنائے گئے سات دیہاتی ہلاک جبکہ 30 تاحال لاپتہ

افغانستان

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

مقامی میڈیا کے مطابق شدت پسندوں نے گاؤں والوں پر الزام عائد کیا کہ وہ حکومت کی مدد کر رہے ہیں

افغانستان کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ طالبان کے ہاتھوں اغوا کیے جانے والے کم از کم سات افراد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قندہار صوبے میں درجنوں دیہاتیوں کو اس ہفتے کے اوائل میں اغوا کیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کم از کم 30 افراد کو رہا کیا گیا جبکہ 30 ہی کے قریب اب بھی لاپتہ ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سنہ 2017 کے آغاز کے بعد سے افغانستان میں بڑھنے والی کشیدگی سے اب تک کم از کم 1600 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

تازہ اغوا کا وقعہ اس وقت پیش آیا جب شدت پسندوں نے قندہار ارزگان ہائی وے پر واقع فوجی کیمپ پر حملہ کیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق شدت پسندوں نے گاؤں والوں پر الزام عائد کیا کہ وہ حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ملک کے شمالی علاقے میں بین الاقوامی طبی ادارے ایم ایس ایف نے قندوز میں ایک میڈیکل کیمپ کھولا ہے۔

سنہ 2015 میں امریکہ کی جانب سے ایم ایس ایف کے ہسپتال پر بمباری کے بعد یہ اس کی پہلی طبی سہولت ہے۔ اس حملہ میں طبی عملے سمیت 42 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ایم ایس ایف کے حکام کے مطابق اس کلینک میں چھوٹی موٹی بیماریوں کا علاج اور معمولی اور پرانے زخموں کا علاج کیا جائے گا۔

اس نئے کلینک میں ایک ڈاکٹر اور پانچ نرسیں ہیں۔