’اچھے طالبان کے ہاتھوں جاں بحق اور برے طالبان کے ہاتھوں شہید‘

  • ذیشان ظفر
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام
لاہور اور کابل میں دھماکے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور افغانستان کے لیے پیر کا دن جان لیوا ثابت ہوا جہاں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات نے عوام کو سوگوار کر دیا لیکن اس کے ساتھ ہی ٹوئٹر پر ہلاک اور شہید کی بحث بھی شروع ہو گئی۔

پیر کو ہونے والے دھماکوں کے بعد سے ٹوئٹر پر کابل اور لاہور میں ہونے والے دھماکے ٹرینڈز میں شامل ہیں۔

کابل کے ٹرینڈ میں روزانامہ جنگ کی اس خبر کو موضوع بنایا گیا جس میں کابل دھماکے میں ہلاکتیں اور لاہور دھماکے میں شہدا لکھا گیا۔

ثنا اعجاز نے دونوں خبروں کے عکس کے ساتھ ٹویٹ کیا کہ' تو اگر آپ اچھے طالبان کے ہاتھوں مارے جائیں تو جاں بحق اور اگر برے طالبان کے ہاتھوں مارے گئے تو آپ شہید ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہTwitter

ایک اور صارف نے ٹویٹ کی کہ' جب تمام مسلمان بھائی ہیں تو کس طرح افغان ہلاک اور پنجابی شہید؟ یہ منافقت ہے۔'

ایک دوسرے صارف قدرت اللہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ'ہم مسلمان نہیں اور اسی وجہ سے ہلاک ہیں۔'

یہاں پر بلڈ مون نامی صارف نے افغان اخبارات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان اخبارات کو کوئی اخلاقیات سیکھائے جن میں لکھا گیا کہ لاہور دھماکے میں متعدد ہلاک۔

یہاں پر تلخ ہوتی صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چترالی نامی صارف نے ٹویٹ کی کہ 'اصل میں اگر ایک معصوم مارا جاتا تو سارے مارے جاتے ہیںں اور اگر ایک بچ جائے تو سب بچ گئے۔'