بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انڈین یوم آزادی پر ہڑتال اور ناکہ بندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے یوم آزادی پر نریندر مودی کے کشمیر کے حوالے سے بیان کے ردعمل میں علیحدگی پسند رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت اور انصاف پر مبنی سوچ ہی مذاکرات کے لیے ماحول سازی کرسکتی ہے۔

نئی دلی کے لال قلعے سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ مذہبی بنیادوں پر کسی کو نفرتیں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جموں کشمیر کے حالات گولی سے ٹھیک ہوں گے نہ گالی سے، بلکہ یہ مسئلہ محبت اور باہمی مفاہمت سے حل ہوگا۔‘

دوسری جانب کشمیر میں انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر تمام دس اضلاع اور جموں کے بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں منگل کو ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کی اپیل علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے مشترکہ طور پر کی تھی۔

٭ 'کشمیر کا مسئلہ نہ گالی سے حل ہو گا اور نہ گولی سے'

٭ کشمیر کے فیصلے کا حق عوام کو: گاندھی

اس دوران مسلح حملوں اور مظاہروں کو روکنے کے لیے سرینگر اور بیشتر دوسرے قصبوں میں سخت ناکہ بندی کی گئی اور لوگوں کی آمدورفت پر پابندی عائد رہی۔

سات گھنٹوں تک انٹرنیٹ اور فون رابطوں پر بھی پابندی تھی۔ تاہم سرکاری طور پر ہر ضلعے میں انڈین ترنگا لہرانے کی تقاریب کڑے سکیورٹی حصار میں منعقد ہوئیں۔

سب سے بڑی تقریب سرینگر کے بخشی سٹیڈیم میں منعقد ہوئی جہاں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ترنگا لہرا کر سلامی لی۔

انھوں نے اپنی تقریر میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان دوستی اور مفاہمت کی وکالت کی اور کہا کہ ’کشمیریوں نے جمہوریت اور مذہبی رواداری کی بنیاد پر انڈیا کے ساتھ الحاق کیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’بہتر خیال کو اظہار کا موقع ملنا چاہیے، خیالات کو قید نہیں کیا جاسکتا۔‘

تاہم اس دوران کپوارہ کے لنگیٹ حلقے سے منتخب رکن اسمبلی انجینیئر رشید نے بخشی سٹیڈیم میں سیاہ پرچم لہرانے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔

انجینیئر رشید واحد ہند نواز لیڈر ہیں جو ایوان میں اور ایوان سے باہر رائے شماری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

٭ ’کشمیر انڈیا کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے؟‘

٭ 'ایک دن مسلمان کشمیر میں اقلیت بن جائیں گے'

دریں اثنا علیحدگی پسند رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا۔

واضح رہے کہ آر ایس ایس کے قریب سمجھی جانے والی ایک این جی او نے انڈین سپریم کورٹ میں ایک درخواست دی ہے جس میں انڈیا کے آئین میں کشمیریوں کے شہری حقوق کو دیے گئے خصوصی تحفظ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس معاملے پر کشمیر میں پہلی مرتبہ ہند نواز اور ہند مخالف سیاسی گروپوں نے مشترکہ مزاحمت کا فیصلہ کیا۔

یہاں تک کہ حریت کانفرنس نے گذشتہ روز انڈین آئین کی دفعہ 35 کے حق میں ہڑتال کی کال بھی دی۔ اس دفعہ کے مطابق جموں کشمیر سے باہر رہنے والا کوئی بھی بھارتی شہری کشمیر میں شہریت حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی غیرمنقولہ جائیداد کا مالک بن سکتا ہے۔

اس معاملے پر پہلے ہی اپوزیشن نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہوا ہے اور وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی برملا کہا ہے کہ ’ایسا کیا گیا تو کشمیر میں بھارتی ترنگا لہرانے والا کوئی نہ بچے گا۔‘

اقتدار میں محبوبہ مفتی کی جاماعت کی اتحادی بی جے پی نے اس بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے جبکہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ وزیراعلیٰ لوگوں کو گمراہ کر کے اصل میں کشمیر کے انڈیا میں مکمل آئینی انضمام کی سہولت کار ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں