’آخر ہادیہ کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ ROSHAN JAISWAL

انڈیا کا انسداد دہشت گردی کا ادارہ این آئی اے کیرالہ میں ایک مسلم لڑکے اور ایک ہندو لڑکی کی شادی کی تفتیش کررہا ہے۔

سپریم کورٹ نے این آئی نے کو حکم دیا ہے کہ وہ دونوں کی شادی کی تفتیش سے یہ معلوم کرے کہ اس شادی میں دہشت گردی کا کوئی پہلو تو شامل نہیں ہے۔

انڈیا میں ہندوؤں کی سخت گیر تنظیمیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ داعش اوردیگر مسلم دہشتگرد تنظیموں کی ایما پر مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں کو ورغلا کر انھیں مسلمان بناتے ہیں اوران سے شادی کرتے ہیں۔ یہ تنظیمیں اسے 'لو جہاد' کا نام دیتی ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس 'لو جہاد' کے لیے غیر ممالک سے با ضابطہ فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اس طرح کا کوئی واقعہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی نظریات کی حامل جماعت بی جے پی اقتدار میں ہے اور ہندتوا کے ایجنڈے پر گامزن ہے

کیرالہ میں چند مہینے پہلے شفیع جہاں نے اکھیلا نام کی ایک 24 سالہ ہندو لڑکی سے شادی کی۔ اکھیلا نے اسلام مذہب اپنا لیا اور اپنا نام ہادیہ رکھا۔ ہادیہ کے والد نے کیرالا ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن فائل کی کہ ان کی بیٹی کو مسلم انتہا پسندوں نے 'لوجہاد' کے ذریعے اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔ ہادیہ نے عدالت کے روبرو یہ بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔

لیکن عدالت عالیہ نے شفیع اور ہادیہ کی شادی رد کر دی اور کہا کہ شادی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے اور اتنا اہم فیصلہ والدین کے بغیر نہیں لیا جا سکتا۔ مئی میں عدالت کے فیصلے کے بعد سے ہادیہ اپنے گھر میں قید ہیں۔ انھیں اپنے شوہر یا کسی اورسے ملنے جلنے کی آزادی نہیں ہے۔ شفیع جہاں نے آزادی کے بنیادی حقوق کی ضمانت کے تحت اپنی بیوی سے ملنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ لیکن سپریم کورٹ نے 24 سالہ ہادیہ کو آزاد کرنے کا حکم دینے کے بجائے این آئی اے کو حکم دیا کہ وہ اس میں لو جہاد اور دہشت گردی کے پہلوؤں کی تفتیش کرے۔

انڈیا ایک کثیرالمذہب ملک ہے اور الگ الگ مذاہب کے لوگ ایک ساتھ پڑھتے، رہتے اور کام کرتے ہیں۔ نوجوان لڑکو ں اور لڑکیوں میں ایک دوسرے کے لیے انسیت پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ کئی بار یہ اانسیت دو ایسے لڑکے اور لڑکی میں پیدا ہو جاتی ہے جو دو الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملک کے آئین نے ہر بالغ مرد اور عورت کو اپنے فیصلے کرنے کا حق دیا ہے اس لیے وہ اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کے بھی مجاز ہیں۔

انڈیا روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک ہے۔ اس لیے ہر برادری دو مذاہب کے لوگوں کے درمیان شادی کی مخالف ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی بھی عمومآ لڑکے کے معاشرے میں لڑکی کی قبولیت کے لیے عمل میں آتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KARIM KHAN
Image caption سنگیتا نے کریم خان سے شادی کر کے پوری کوشش کی ہے کہ وہ کریم کے خاندان کی روایات کے مطابق رہیں

لیکن جیسے جیسے انڈیا میں ہندوتوا کا اثر بڑھ رہا ہے، ہندو مسلم شادیاں ہندوتوا کے نظریے کے نشانے پر ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف ہندو لڑکیاں مسلم لڑکوں سے شادیاں کر رہی ہیں۔ مسلم لڑکیاں بھی بڑی تعداد میں ہندو لڑکوں سے شادی کرتی ہیں اور کچھ مذہب بھی تبدیل کر تی ہیں۔ کسی جمہوری ملک میں پیار اور شادی جیسے معاملے قطعی طور پر انفرادی آزادی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انڈیا کی عدالتوں نے ماضی میں ہزاروں جوڑوں کو پولیس اور معاشرے کے جبر سے تحفظ فراہم کیا ہے۔

تجزیہ کار ایک عرصے سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ہندو مسلم شادی کو انفرادی پسند اور فیصلہ نہ سمجھ کر اسے دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی ایک منظم تحریک سمجھنا غلط ہو گا۔ ماضی میں کئی تفتیش سے ابھی تک ایسا کوئی عندیہ نہیں ملا ہے کہ اس طرح کی شادیوں کے پیچھے کوئی چھپا ہوا مقصد کام کر رہا ہے۔ یا وہ کسی منظم تحریک کے تحت ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی نظریات کی حامل جماعت بی جے پی اقتدار میں ہے اور ہندتوا کے ایجنڈے پر گامزن ہے

نیشنل انوسٹی گیشن ایجینسی یعنی این آئی اے دہشتگردی کے واقعات کی تفتیش اور اس کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ہے۔ این آئی سے اے سے شفیع جہاں اور ہادیہ کی شادی کی تفتیش کرانے سے زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ عدالت عظمی چوبیس برس کی تعلیم یافتہ ہادیہ کو غیر قانونی نظربندی سے آزاد کرنے کا حکم دیتی اور ان سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرتی۔ آخر ہادیہ کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں