بنگلہ دیش نے روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی واپس بھیج دی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ۔ حکام کے مطابق پناہ کے طلبگاروں میں 18 مرد، نو خواتین اور چار بچے تھے جن میں دو افراد زخمی بھی تھے۔

سنیچر کے روز بنگلہ دیش میں کوسٹ گارڈ نے ایک ایسی کشتی کو ملک میں داخل نہیں ہونے دیا جس میں 31 روہنگیا مسلمان میانمار میں حالیہ فوجی کارروائیوں سے بچ کر پناہ لینے کے آئے تھے۔

یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں میانمار کی ریاست روخائن سے کم از کم 500 روہنگیا افراد بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ضلع کوکس بازار کے پہاڑی علاقوں اور پناہ گزین کیمپوں میں آئے ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کا درد

کوسٹ گارڈ کو یہ کشی ناف دریا میں ملی جو کہ میانمار اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحد ہے۔

کشتی پر موجود پناہ گزینوں میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے۔ کوسٹ گارڈ کے ترجمان شیخ فخر نے بتایا کہ کشتی پر موجود پناہ گزینوں نے بتایا کہ وہ تشدد سے بھاگ کر آئے ہیں۔ حکام کے مطابق پناہ کے طلبگاروں میں 18 مرد، نو خواتین اور چار بچے تھے جن میں دو افراد زخمی بھی تھے۔ شیخ فخر نے افسوس کے ساتھ کہا کہ پھر بھی ہمیں انھیں واپس بھیجنا پڑا۔

یاد رہے کہ پناہ گزینوں کی حالیہ بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ کئی ماہ سے جاری میانمار میں فوجی کارروائی ہے جس میں ملک کی مسلمان اقلیت کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اقوام متحدہ کہہ چکی ہے کہ یہ کارروائی نسل کشی کے مترادف ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ پر ایک نظر۔

گذشتہ سال اقوام متحدہ نے روہنگیا اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بنا پر آنگ سان سوچی کی قیادت میں قائم میانمار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انسانی حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا تھا کہ اسے ہر روز ریپ، قتل اور دیگر زیادتیوں کے بارے میں رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں لیکن آزاد مبصرین کو ان جرائم کی تحقیقات سے روکا جا رہا ہے۔

ادارے کے سربراہ زید راعد الحسین نے ایک بیان میں کہا تھا کہ نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کی قیادت میں قائم میانمار کی حکومت کی طرف سے اختیار کیا گیا طرزِ عمل 'خلاف منشا اور بے حس' ہے۔

یاد رہے کہ اپریل میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے ان الزامات کی تردید کی تھی کہ ملک میں مسلمان اقلیت کا نسل کی بنیاد پرقتل عام ہو رہا ہے۔

نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی نے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اس بات کو تسلیم کیا کہ میانمار کی شمالی ریاست رخائین میں مشکلات ہیں جہاں روہنگیا کے مسلمان آباد ہیں۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ نسلی صفائی جیسی اصطلاح کا استعمال 'بہت سخت' ہے۔

میانمار کی فوج نے گذشتہ سال سرحدی محافظوں پر ہونے والے حملوں کے بعد فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کے دوران فوج پر روہنگیا کے مسلمانوں کے قتل، تشدد اور ریپ کے الزامات عائد کیے گئے یہاں تک کہ 70,000 افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش بھاگنا پڑا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں