تقسیم کے 70 برس: منشیات میں ڈوبے سرحدی دیہات

انڈیا کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک' کے دعوے کے کچھ دنوں بعد یہاں کے اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی کہ پاکستان کی جوابی کارروائی کے خدشے میں سرحد کے قریب انڈین پنجاب کے پانچ اضلاع کے سینکڑوں دیہات کو خالی کروایا جا رہا ہے۔

اسی طرح کے ایک دیہی علاقے مہوا کے مان سنگھ کہتے ہیں: 'ہمیں بار بار ایسا کرنا ہوتا ہے۔ 1965، 1971 اور پھر کارگل کی لڑائی کے وقت سنہ 1999 میں۔ تاہم اس بار ہم نے گاؤں کو خالی کرنے سے انکار کر دیا۔'

کامریڈ رتن سنگھ رندھاوا کہتے ہیں: 'سرحد پر آباد علاقوں میں ہمیشہ جنگ کا خوف رہتا ہے۔'

رندھاوا سرحد پر آباد لوگوں کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم بارڈر ایریا سنگھرش سمیتی کے جنرل سکریٹری ہیں۔

ماہر نفسیات جے پی ایس بھاٹیہ بتاتے ہیں کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ '24 گھنٹے خوف کے سائے میں جیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا پاکستان سرحد پر آباد پل کنجری گاؤں کو خالی کرتے ہوئے لوگوں کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے (فائل فوٹو)

ڈاکٹر بھاٹیا کے کلینک میں بارڈر ایریا سے آنے والے ایسے مریضوں کی تعداد خاصی ہے جو گھبراہٹ (پینك ڈس آرڈر) کا شکار ہوتے ہیں اور خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا گيا ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'جب مرد کام کرنے جاتے ہیں تو خواتین فکر مند رہتی ہیں کہ وہ کب آئیں گے۔ اگر کھیت سرحدی باڑ کے پار ہے تو ذہنی دباؤ کئی گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔

رندھاوا کہتے ہیں: 'انڈین پارلیمان پر حملے کے بعد، پورے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا دی گئی تھیں۔ خوف کے باعث لوگ ڈیڑھ سال تک وہاں کاشتکاری نہیں کر سکے تھے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقریبا 3،000 کلو میٹر طویل سرحد ہے جس کا 550 کلو میٹر حصہ پنجاب میں آتا ہے۔

ریاست میں کم از کم 1837 گاؤں سرحد کے قریب آباد ہیں اور ان میں رہنے والوں کی کل تعداد تقریباً 20 لاکھ ہے۔

ان میں سے زیرو لائن یعنی بالکل سرحد پر بسنے والے درجنوں گاؤں کے لوگوں کو تو ایک دوسری قسم کی پریشانی کا سامنا ہے۔

امرتسر کی گرو نانک دیو یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق انڈیا نے جو خاردار باڑ لگائی ہے اس کی وجہ سے 17،000 ایکڑ کھیت دوسری طرف چلے گئے ہیں جہاں جانے اور کام کرنے کے لیے کسانوں کو نہ صرف شناختی کارڈ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ وہ کب اور کتنی دیر کے لیے کھیت میں جائیں گے، کون سی فصل لگائیں اور کون سی نہیں یہ بارڈر سکیورٹی فورس طے کرتی ہے۔

گاؤں داؤ کے کسان گرنام سنگھ جہاں مزدوروں کو کاشت کے لیے باڑ کی دوسری جانب لے جانے کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہیں وہیں مان سنگھ کہتے ہیں کہ جن کے کھیت باڑ کے اس پار ہیں انھیں صرف چاول اور گندم کی کاشت کی اجازت ہے۔

Image caption گرنام سنگھ کے 25 ایکڑ کھیت باڑ کے اس پار ہیں

گرنام سنگھ کہتے ہیں کہ وہ سبزی نہیں اگا سکتے کیونکہ اسے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہے اور کھیتوں میں جانے کے لیے بی ایس ایف گیٹ ہفتے میں زیادہ سے زیادہ تین بار ہی کھولتی ہے اور وہ بھی چند گھنٹوں کے لیے۔

ڈاکٹر بھاٹیہ کہتے ہیں: 'میرے پاس ان علاقوں سے بہت سے مریض آتے ہیں، کم از کم 15 سے 20 فیصد۔ لوگوں کو منشیات اور شراب کی لت ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'اکثر لوگ خوف پر غالب آنے اور اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے منشیات یا شراب کا سہارا لیتے ہیں اور رفتہ رفتہ جسم اس کا عادی ہو جاتا ہے۔'

آئی جی پولیس ایم ایف فاروقی کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں منشیات کی لت نے وبائی صورت اختیار کر رکھی ہے۔

فاروقی بی ایس ایف میں ڈی آئی جی کے عہدے پر امرتسر کے علاقے میں ملازم تھے اور انھوں نے علاقے میں منشیات کے خلاف مہم چلائی تھی۔

بی ایس ایف کا مقصد ان علاقوں میں ایک دوسری دفا‏عی قطار تیار کرنی تھی جس میں اس کامیابی بھی ملی اور سکیورٹی فورسز نے دو سالوں میں تقریباً 450 کلو گرام ہیروئن برآمد کی۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ منشیات کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے جس کی سپلائی لائن کو توڑنا آسان ہے لیکن ڈیمانڈ لائن پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔

اسی بارے میں