وہ ہار جسے انڈیا پاکستان کی تقسیم نے جدا کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Archaeological Survey of India and Getty Images
Image caption مو‏ئن جودڑو کی کھدائی میں ملنے والے ہار کا بایاں حصہ انڈیا اور دایاں حصہ پاکستان کے پاس ہے

انڈیا اور پاکستان ہمیشہ علیحدہ ممالک نہیں تھے وہ ایک تھے۔ اس کی تاریخ ایک تھی۔ ان کی ثقافت اور میراث ایک ہی تھی۔.

ملک تقسیم ہوا تو صرف زمین تقسیم نہیں کی گئي، ریاستوں کے درمیان نہیں سرحد نہیں کھینچی گئی بلکہ مشترکہ وراثت اور تاریخ کا بھی بٹوارہ ہو گيا۔

دونوں ممالک کے شہری بٹوارے کے وقت سوئیوں، پنسلوں، کرسیوں اور پالتو جانوروں کے لیے لڑنے لگے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بٹوارے کی کہانیاں

یہ تقسیم ایک تاریخی وراثت کی تقسیم تھی۔ وادی سندھ کی تہذیب کا گہوراہ کہے جانے والے شہر موئن جودڑو کی کھدائی میں ایک ہار ملا تھا جس پر انڈیا اور پاک تعلقات کے درمیان رسہ کشی دیکھی گئی تھی۔

1920 ء میں جب ہندوستان آزاد نہیں تھا، انڈیا اور پاکستان ایک ہی تھے اس وقت سندھ صوبے میں کھدائی کے دوران تقریبا پانچ ہزار سال پرانے شہر کے باقیات ملے تھے۔

اسے وادی سندھ کی تہذیب کے نام سے جانا گیا۔ کھدائی میں جو شہر ملا وہ اپنے آپ میں انسانی ترقی کی ایک مثال تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کھدائی کے دوران ہار ملا

وادی سندھ کی تہذیب کی دریافت نے انگریزوں کے غلام ہندوستانیوں کو اپنی تاریخ پر فخر کا سبب فراہم کیا۔ اب ہندوستان کے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی تاریخ بھی مصر، یونان اور چین کی تہذیب کی طرح ہزاروں سال قدیم ہے۔

انڈیا کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جوہرال لال نہرو نے اپنی کتاب 'ڈسکوری آف انڈیا' میں موئن جودڑو کے بارے میں لکھا۔

وہ کہتے ہیں کہ موئن جودڑو کے ٹیلے پر کھڑا ہو کر انھیں یہ احساس ہوا وہ پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم تہذیب تمدن کی پیداوار ہیں، تہذیب جو مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

موئن جودڑو میں کھدائی کے دوران، رقص کرتی ہوئی ایک خاتون کا مجسمہ، ایک پجاری کا مجسمہ اور ہزاروں دوسری چیزیں ملیں لیکن کوئی بھی چیز صحیح و سالم نہیں تھی۔

کھدائی کے دوران ایک سونے کا ہار بھی ملا تھا جس میں بیش قیمتی پتھروں کو سونے کی لڑیوں میں پرویا گیا تھا موئن جودڑو میں ملنے والی یہ واحد چیز تھی جو صحیح و سالم تھی۔

سودیشنا گوہا مورخ اور آثار قدیمہ کی ماہر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وادی سندھ کی تہذیب کی کھدائی میں بہت کم زیورات ملے تھے لیکن سونے کا یہ ہار بیش قیمتی غیر معمولی تھا۔

یہ ایک سنسنی خیز دریافت تھی۔ ہار تانبے کے ایک برتن میں پایا گیا تھا۔ یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ گھر کسی زرگر کا رہا ہوگا۔

سودیشنا گوہا کے مطابق وادی سندھ کی تہذیب کی دریافت ہندوستان کے لیے ایک بڑی چیز تھی۔ کانسی کے عہد کی اس تہذیب کی دریافت سے ہندوستان نے ان ممالک کی قبیل میں شامل ہو گیا جن کی قابل فخر طویل تاریخ تھی۔

وزیرہ فاضلی امریکہ کی براون یونیورسٹی آثار قدیمہ کی مؤرخ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وادی سندھ کی تہذیب کی یافت ہندوستانی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وادی سندھ کی تہذیب ہند و پاک کی مشترکہ وراثت ہے کیونکہ سنہ 1947 سے پہلے، دونوں ممالک ایک ہی تھے۔

لیکن جب جون سنہ 1947 میں تقسیم کا اعلان کیا گیا تو صدیوں سے ساتھ ساتھ رہنے والے لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے آپس میں لڑنے لگے۔ چند مہینے قبل انگلینڈ سے لائی جانے والی 60 بطخیں بھی دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کی گئیں۔

ہاتھیوں کا بھی بٹوارہ

محکمۂ جنگلات کی ملکیت جائے منی نام کا ایک ہاتھی مشرقی بنگال کو دے دیا گيا تو انڈیا کے لوگوں نے اس پر سخت احتجاج کیا۔ ہاتھی کے مہاوت نے ہندوستان میں رہنے کا ہی فیصلہ کیا تھا۔

ملک کی تقسیم کے ساتھ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بھی دو حصے لگائے گئے۔

مثال کے طور پر وزارت خارجہ سے 21 ٹائپ رائٹرز، 31 قلمدان، 16 آرام کرسیاں، 125 کاغذ دان اور افسران کے بیٹھنے کی 31 کرسیاں پاکستان بھیجی گئيں۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ ملک کے بٹوارے کے بعد برطانوی حکومت کا دارالحکومت دہلی تو انڈیا کا دارالحکومت بن گيا جبکہ پاکستان نے اپنا دارالحکومت کراچی کو بنایا۔

کراچی ایک صوبے کا دارالحکومت تھی۔ وہاں اتنے دفاتر موجود نہیں تھے جتنے کسی ایک ملک کی ضرورت تھے، نہ ہی خاطر خواہ جگہ ہی تھی اور نہ حکومت کا نظام چلانے کے لیے ضروری سامان۔

پاکستان کی نئی حکومت کو کاغذات، فائلوں، قلم اور پنوں جیسے مسائل کا سامنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ جب دونوں ممالک قلم، پنسلوں اور پنوں جیسی چھوٹی چھوٹی چیزیں تقسیم کر رہے تھے تو، انھوں نے بیش قیمتی اور تاریخی چیزیں کیسے تقسیم کی ہوں گی؟

ہر ملک کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی اپنی تاریخ ہو لیکن انڈیا اور پاکستان کی کوئی علیحدہ تاریخ نہیں تھی اس لیے اب وہ اس کی تقسیم کیسے کرتے؟

ملک کی تقسیم سے وادی سندھ کی تہذیب و تمدن کا سب سے بڑا مرکز موئن جودڑو پاکستان کے حصے میں آ گیا۔ پاکستان کی اپنی علیحدہ کوئی تاریخ نہیں تھی۔ ایسے میں ضروری ہو گیا کہ وہ وادی سندھ کی نئے سرے سے تعریف کرے اور اسے انڈیا سے مختلف اپنی تاریخ بتائے لیکن اس کے لیے اس کے پاس کھدائی میں ملنے والی چیزیں ہونی چاہیے تھی۔

وازیرہ زمیندار کا کہنا ہے کہ تقسیم کے بعد، وادی سندھ کی تہذیب کی نئے سرے سے تعریف کی ضرورت محسوس ہوئی اور اسے پاکستانی افتخار بتانے کی کوشش شروع ہوئی۔

اس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ پاکستان کی انڈیا سے پوری طرح مختلف ایک شاندار تاریخ ہے جو ہندو انڈیا کی نہیں بلکہ مسلم پاکستان کی تاریخ ہے۔

اسی لیے تقسیم کے بعد، پاکستان کی پانچ ہزار سال قدیم تاریخ جیسی کتابیں لکھنے کی کوششیں کی گئيں۔ ایک ایسی تاریخ لکھنے کی کوشش کی گئی جو کبھی تھی ہی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کسے کیا ملا؟

تاریخ نویس سودیشنا گوہا کا کہنا ہے کہ جب ملک تقسیم ہو رہا تھا تو انڈیا نے یہ بھی وادی سندھ ملنے والی ایک ہزار سے زائد اشیا پر دعوی پیش کیا۔

سامان کی تقسیم کے لیے جو اصول اپنایا گیا اس کے تحت 60 فیصد چیزیں انڈیا اور 40 فیصد پاکستان کو ملنی تھی۔

ان میں موئن جودڑو کی رقاصہ اور مراقبے میں غرق یوگی کا مجسمہ بھی شامل تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ بیش قیمت ہار بھی اس میں شامل تھا۔

رقص کرنے والی لڑکی کا مجسمہ انڈیا کے حصے میں آیا تو یوگی کا مجسمہ پاکستان کے۔ اب بات سونے کے ہار پر ٹک گئی۔ یہی ایک واحد چیز تھی جو کھدائی میں سالم ملی تھی۔

جب اس ہار کی تقسیم پر اتفاق نہیں ہوا تو اس کلے بھی افسروں نے اس ہار کا بھی ملک کی طرح بٹوارہ کیا۔ اس کے بھی دو ٹکڑے کیے گئے اور ایک حصہ پاکستان کو جبکہ ایک حصہ انڈیا کو ملا۔

انڈیا کو ملنے والا حصہ دہلی کے نیشنل میوزیم میں رکھا ہے۔

تاریخ داں سودیشنا گوہا اس تقسیم کو تاریخ کا المیہ قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تاریخ کو چیڑ پھاڑ کر اس کے دو حصے کر دیے گئے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ کسی کو کوئی شرمندگی بھی نہیں۔

ایک بار امریکہ میں، ایک نمائش کے لیے دونوں ٹکڑوں کو یکجا کرنے کی پیشکش کی گئي تھی لیکن انڈیا نے اپنے ہار کے ٹکڑے کو دینے سے انکار کر دیا۔

موئن جودڑو کی کھدائي میں ملنے والا یہ ہار اور اس کے دو ٹکڑے انڈیا پاکستان کی تقسیم کے سب سے بڑے گواہ ہیں۔

اسی بارے میں