انڈیا: ٹوائلٹ نہ بنانے پر عدالت سے خاتون کو طلاق کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خبر رساں ادارے ٹائمز آف انڈیا نے عدالت کے حوالے سے بتایا کہ 'ہم شراب، سگریٹ، اور موبائل فونوں پر خرچہ کرتے ہیں مگر اپنے حاندان کی عزت کے تحفظ کے لیے ٹوائلٹ بنانے کے لیے نہیں کرتے۔'

انڈیا کی ریاست راجستھان میں ایک خاتون کو اس بات پر اپنے شوہر سے طلاق لینے کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اُس کا شوہر اُن کے گھر میں رفع حاجت کے لیے ٹوائلٹ نہیں بنواتا تھا۔

بیس سال عمر کے لگ بھگ اس خاتون کی شادی کو تقریباً پانچ سال ہو چکے تھے اور انھیں رفع حاجت کے لیے قریبی کھیتوں میں جانا پڑتا تھا۔

انڈیا کے قانون میں خواتین کو طلاق لینے کا حق صرف چند ہی صورتوں میں ہوتا ہے جیسے گھریلو تشدد یا انتہا کا ظلم۔

انڈیا: کروڑوں خواتین کام کیوں چھوڑ رہی ہیں؟

’نصاب میں خواتین کی بہترین فگرز دینے پر تنازع‘

اس خاتون کے وکیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت کا کہنا تھا کہ کھلے آسمان تلے رفع حاجت پر کسی کو مجبور کرنا تشدد کی ایک قسم ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ خواتین کو اکثر غسل خانہ استعمال کرنے کے بجائے شام ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ کھلے کھیتوں میں جا سکیں۔

خبر رساں ادارے ٹائمز آف انڈیا نے عدالت کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم شراب، سگریٹ، اور موبائل فونوں پر خرچہ کرتے ہیں مگر اپنے خاندان کی عزت کے تحفظ کے لیے ٹوائلٹ بنانے کے لیے نہیں کرتے۔‘

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ’دیہاتوں میں خواتین کو رفعِ حاجت کے لیے شام کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی طور پر ظلم ہے بلکہ خواتین کی عزت کا بھی مسئلہ ہے۔‘

انڈین میڈیا کے مطابق اس خاتون نے طلاق کے لیے 2015 میں درخواست دی تھی۔

انڈیا کے دیہاتی علاقوں میں کھلے آسمان تلے رفعِ حاجت کے لیے جانا ایک عام مسئلہ ہے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2019 تک ہر گھر میں ایک ٹائلٹ بنایا جائے تاہم اس کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے کوششوں کے پیچھے خواتین کی حفاظت اور آرام ایک اہم عنصر ہے۔ مگر جو غسل خانے بنائے گئے ہیں ان کو بھی بہت سے لوگ بیماروں کے باوجود استعمال نہیں کرتے۔

گذشتہ برس اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے اندازہ کے مطابق انڈیا کی نصف آبادی غسل خانے استعمال نہیں کرتی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں