گڑگاؤں میں ڈیرہ اسماعیل خان کی یادیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ڈیرہ اسماعیل خان میں اب بھی ہندوؤں کے مکانات کی نشانیاں موجود ہیں

تقسیمِ ہند سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں ہندو بڑی تعداد میں آباد تھے جن کی نشانیاں آج بھی اس شہر میں دیکھی جا سکتی ہیں اور یہ نشانیاں بٹوارے سے پہلے یہاں رہنے والوں کی کہانیاں بتاتی ہیں۔

بٹوارے کے بعد پاکستان کے حصے میں آنے والے دیگر علاقوں کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی بہت سے ہندو خاندانوں نے اپنا گھربار چھوڑ کر انڈیا کا رخ کیا اور اپنے ساتھ اس علاقے کی زندگی، زبان اور ثقافت بھی ساتھ لے آئے۔

* تقسیم کے 70 برس: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

دہلی کے قریب گڑگاؤں میں رہنے والی پریم پپلانی بھی انھی افراد میں شامل ہیں اور وہ اب بھی ڈیرہ اسماعیل خان کی زبان سرائیکی بولتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'تقسیم کے وقت ماحول خراب تھا۔ مجھ پر بھی تلوار سے حملہ ہوا۔ تقسیم کے بعد بہت سے لوگ ہندوستان آئے اور جسے جہاں جگہ ملی وہ وہاں بس گیا۔ میں 50 سال جالندھر میں رہا اور پھر گڑگاؤ ں آگیا۔'

Image caption پریم کا آبائی مکان اب ایک سرکاری سکول میں تبدیل ہو چکا ہے

ڈیرہ اسماعیل خان کی محبت تقریباً 57 برس بعد ایک بار پھر 1999 میں پریم کو واپس پاکستان لے گئی۔

انھوں نے بتایا، 'جیسے ہی میں نے وہاں قدم رکھا، وہی مٹی کی خوشبو تھی، وہی احساس تھا جو 1942 میں ہوتا تھا۔ وہاں جا کر ایک عجیب سا جوش پیدا ہو گیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اتنے سالوں میں کچھ نہیں بدلا۔ اس علاقے میں اب تک پرانے گھر ہیں، گئو شالا ہے اور ایک مندر بھی ہے۔ ہندوؤں اور سکھوں کے گھروں پر ان کے ناموں کی تختیاں اب بھی ہیں۔ بہترین احساس تب ہوا جب اپنا گھر دیکھا۔ یہ گھر میرے دادا نے تعمیر کروایا تھا۔ اب وہاں ایک سرکاری سکول ہے۔'

Image caption پریم کی بیٹی نیلما کے مطابق ان کے والد کچھ خاص مواقع پر اب بھی وہ کپڑے پہنتے ہیں جو ڈیرے والے پہنتے ہیں

پریم کی ڈیرہ اسماعیل خان آمد نے وہاں کے رہائشیوں کو بھی حیران کیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے بلند اقبال نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا، 'جب لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ وہ بھارت سے آئے ہیں اور یہاں کی زبان یعنی سرائیکی بولتے ہیں تو لوگ بہت حیران ہوتے ہیں۔ یہ بھی حیران کن ہے انڈیا میں ان جیسے کئی اور لوگ بھی ہیں۔'

پریم پپلانی تو ڈیرہ اسماعیل خان کی زبان بولتے ہیں اور وہاں کے رہن سہن کے بارے میں بھی جانتے ہیں لیکن ان کے خاندان کی نئی نسل کے لوگوں کا رشتہ اس ثقافت سے کچھ مضبوط نہیں۔

Image caption جب یہ ڈیرے والے ملتے ہیں تو پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں

ان كي بیٹی نيلما وگ نے بتايا، 'میں سرائيكي کے چند الفاظ سمجھ سکتی ہوں لیکن زبان پوری طرح نہیں جانتی۔ میرے والد کچھ خاص مواقع پر اب بھی وہ کپڑے پہنتے ہیں جو ڈیرے والے پہنتے ہیں۔'

آج کے انڈیا میں گنے چنے لوگ ہی بچے ہیں جو ڈیرہ اسماعیل خان کی سرائیکی بولتے ہیں لیکن اب بھی جب یہ ڈیرے والے ملتے ہیں تو پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں اور سرائيكي کے لوک گیت گا کر ماضی یاد کرتے ہیں۔

اسی بارے میں