'جوناگڑھ کے پاکستان میں انضمام کا فیصلہ نواب کا نہیں شاہنواز بھٹو کا تھا‘

جوناگڑھ
Image caption نواب کے محلات، مہمان خانے اب میوزیم اور سرکاری دفاتر میں تبدیل کر دیے گئے ہیں

تقسیمِ ہند کے وقت برصغیر میں ایسی سینکڑوں ریاستیں تھیں جہاں نوابوں کی حکومتیں تھیں۔ ایسی ہی ایک ریاست گجرات کے جنوب مغربی ساحلی خطے میں واقع جوناگڑھ تھی۔

ریاست جونا گڑھ سلطنتِ مغلیہ کے جرنیلوں نے قائم کی تھی جنھیں بابی نواب بھی کہا جاتا تھا۔ ان نوابوں نے ریاست کے ہندو مندروں اور مٹھوں کو بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں اور ان کی مالی مدد کی۔

اس بڑی اور خوشحال ریاست کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی ہندو تھی لیکن ریاست کے نواب نے انڈیا کے برعکس پاکستان میں ضم ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

مقامی بزرگوں اور خطے کے مورخین کا کہنا ہے کہ نواب محمد مہابت خان سوم نے ریاست کو پاکستان میں ضم کرنے کا فیصلہ اپنے دیوان شاہنواز بھٹو کے دباؤ میں آ کر کیا تھا۔

شاہنواز بھٹو پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے کے والد تھے اور عارضی طور پر نواب کے دیوان مقرر ہوئے تھے۔

85 سالہ مورخ ہریش شمبھو پرساد دیسائی کے والد نواب آف جوناگڑھ کے ریونیو کمشنر تھے۔

Image caption نواب مہابت خان اپنی بیگمات اور بچوں کے ہمراہ ایک ڈکوٹا طیارے کے ذریعے پاکستان چلے گئے اور پھر کبھی واپس نہ آئے

ان کا کہنا ہے پاکستان میں شامل ہونے کے فیصلے پر لوگ حیران رہ گئے تھے۔ 'پبلک شاک میں آ گئی۔ کیونکہ نواب کو لوگ جس طرح جانتے تھے وہ بالکل کمیونل نہیں تھے۔ پاکستان میں جانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان یہاں سے بہت دور ہے۔ کوئی فضائی رابطہ نہیں تھا، کسی طرح پاکستان سے ملنا ممکن نہیں تھا۔ پھر بھی نواب ایسا کوئی فیصلہ کریں یہ لوگوں کو منظور نہیں تھا۔'

ہریش دیسائی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں انضمام کے اعلان کے بعد جونا گڑھ میں کوئی بڑا فساد نہیں ہوا لیکن لوگوں میں اتنی گھبراہٹ طاری ہو گئی تھی کہ 'ایک وقت ایسا آ گیا کہ جو سرکاری ملازم تھے، جو بوڑھے تھے اور جو کہیں جا نہیں سکتے تھے ان کے سوا پورا جوناگڑھ خالی ہو گیا۔ دیہات میں لوگوں نے اپنے گھر والوں کو دوسری ریاستوں میں بھیج دیا تھا۔'

ان کا کہنا ہے پاکستان میں ضم ہونے کا فیصلہ نواب کا نہیں بلکہ ان کے عارضی دیوان شاہنواز بھٹو کا تھا۔ 'بھٹو نے نواب مہابت خان کو عملی طور پر نظر بند کر دیا تھا۔ فیصلے کے بعد کسی سے کبھی ملنے نہیں دیا۔ جام نگر کے مہاراجہ دگ وجے ان کے بہت قریبی دوست تھے، انھوں نے نواب سے ملنے کی کوشش کی تو انھیں بھی نہیں ملنے دیا۔'

غلام رسول خاں یوسف زئی اس وقت 15 برس کے تھے۔ انھوں نے اس وقت کا منظر یاد کرتے ہوئے بتایا: 'ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی۔ خوف کا ماحول تھا، کوئی گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا، سب لوگ گھروں میں بیٹھے ہوتے تھے۔'

Image caption جوناگڑھ کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی ہندو تھی

ان کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں ضم ہونے کا فیصلہ نواب مہابت خان کا نہیں تھا۔ 'دنیا کہتی ہے کہ (شاہنواز) بھٹو نے انھیں بہکایا ۔ بھٹو صاحب انھیں پاکستان لے گئے۔ ہم تو اس وقت ناسمجھ تھے لیکن والد صاحب اور سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ بھٹو کے کہنے پر وہ پاکستان گئے۔'

خیال رہے کہ نواب مہابت خان اس افراتفری کے درمیان اپنی بیگمات اور بچوں کے ہمراہ ایک ڈکوٹا طیارے کے ذریعے پاکستان چلے گئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی پاکستان، امریکہ اور یورپ منتقل ہو گئے۔ بس کچھ دور کے رشتے دار باقی بچے ہیں جو الگ الگ مقامات پر بس گئے ہیں۔

آزادی کے چند مہینے بعد ریاست کو انڈیا میں باضابطہ طور پر ضم کر لیا گیا تھا اور جوناگڑھ کی نئی نسل اس بات پر خوش ہے کہ یہ خطہ پاکستان میں شامل نہیں ہو سکا۔

چراغ ونود بھائی ٹھکرار کہتے ہیں 'اگر جونا گڑھ پاکستان میں چلا گیا ہوتا تو یہاں کی ثقافتی وراثت مٹ گئی ہوتی۔ یہاں دو ہزار برس پرانے بدھسٹ غار ہیں، شہنہشاہ اشوک کے قدیم ستون ہیں، مقدس سدرشن تالاب ہے۔ یہ سبھی ختم ہو گئے ہوتے۔'

قانون کی ایک نوجوان لیکچرار شائستہ کھوکھر بھی انڈیا میں رہ جانے پر خوش ہیں۔ 'پاکستان کے بارے میں سنتے ہیں کہ وہاں لڑکیوں پر کتنی پاپندیاں ہیں۔ اگر ہم وہاں ہوتے تو ہم وہ بہت کچھ نہ کر پاتے جو یہاں کر پاتے ہیں۔'

Image caption پاکستان میں انضمام کے اعلان کے بعد جونا گڑھ میں کوئی بڑا فساد نہیں ہوا

آزادی کے وقت پاکستان کے ساتھ جانے کے فیصلے کا ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات پر کبھی کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔

چراغ کہتے ہیں کہ 'یہاں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ فیصلہ ہندو نے کیا تھا یا مسلم نے۔ آزادی سے پہلے بھی ہندو مسلم ساتھ ساتھ رہتے آئے تھے اور یہی کلچر آج بھی ہے۔ جونا گڑھ ہندو مسلم ثقافت کا مجموعہ ہے۔'

مقامی صحافی حنیف کھوکھر کہتے ہیں کہ یہاں کے لوگ یہی سوچتے ہیں کا پاکستان میں انضمام کا فیصلہ غلط تھا اور یہ فیصلہ نواب مہابت خان کا نہیں تھا۔ 'آج بھی لوگ کہتے ہیں اگر نواب یہاں رک گئے ہوتے تو بہت عزت کے ساتھ رہتے۔ آج کی نسل پر ان واقعات کا کوئی منفی اثر نہیں ہے ۔'

جوناگڑھ اب گجرات کا ایک بڑا سیاحتی مرکز ہے۔ نواب کے محلات، مہمان خانے اور شاہنواز بھٹو کی رہائش گاہ اب میوزیم اور سرکاری دفاتر میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کو تقسیم سے پہلے کی اپنی مشترکہ وراثت پر فخر ہے۔ جگہ جگہ خوبصورت مقبرے اور عالیشان عمارتیں جوناگڑھ کی خوشحالی اور شان وشوکت کا پتہ دیتی ہیں۔

ماضی کی یہ خوبصورت عمارتیں اور مقبرے یہاں کے نوابوں اور تاریخ کی یاد دلاتی ہیں لیکن تقسیم ہند کی سات دہائیوں بعد پاکستان سے جوناگڑھ کے انضمام کے اعلان کی یادیں اب تاریخ میں کہیں گم ہو چکی ہیں۔

اسی بارے میں