گرو گرمیت رام رحیم کو سزا سنانے سے قبل ہائی الرٹ

پنچکلا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

حکام کے مطابق کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج کو تیار رکھا گیا ہے

انڈیا کی ریاست ہریانہ میں عدالت پیر کو روہتک جیل میں گرمیت رام رحیم کو ریپ کیس میں سزا سنائے گی۔

یاد رہے کہ گرو گرمیت رام کو گذشتہ جمعے کو اس کیس میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔

اس سے قبل ریاست میں سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ گرو گرمیت رام رحیم کو کم از کم سات سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

50 سالہ مذہبی پیشوا کو سزا سنائے جانے کے لیے عدالت نہیں لے جایا جائے گا۔ اس کے برعکس جس جج نے انھیں مجرم قرار دیا ہے وہ روہتک جیل جائیں گے اور سزا سنائیں گے۔

ہریانہ پولیس نے پنچکولا میں ہونے والے تشدد کو دیکھتے ہوئے روہتک جیل کو قلعے میں تبدیل کر دیا ہے۔

سی بی آئی کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ پیر کی دوپہر تقریباً ڈھائی بجے فیصلہ سزا سنائیں گے۔ ہریانہ ڈی جی پی بی ایس سندھو نے بتایا کہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوج کو تیار رکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

روہتک میں نیم فوجی دستوں کی 23 کمپنیوں کے ساتھ ساتھ خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں

ہریانہ کے محکمہ داخلہ نے 28 اگست سے لے کر 29 اگست کی صبح 11.30 بجے تک موبائل انٹرنیٹ، ایس ایم ایس اور وائرلیس انٹرنیٹ سروسز کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس دوران لوگ موبائل پر ایک دوسرے سے بات کر پائیں گے۔

ہریانہ ڈی جی پی بی ایس سندھو نے کہا ہے کہ روہتک میں کسی بھی طرح کی غنڈہ گردی اور امن خراب کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا: ’نیم فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ پولیس فورسز کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے. اس کے علاوہ روہتک اور سرسا میں فوج کو تیار پر رکھا گیا ہے۔‘

ڈی جی پی سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دیکھتے ہی گولی مارنے جیسے اقدامات کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ڈی جی پی سندھو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دیکھتے ہی گولی مارنے جیسے اقدامات کا حکم بھی دیا گیا ہے

اضافی پولیس ڈائریکٹر جنرل عقیل محمد نے بتایا کہ 'اگر سماج دشمن عناصر کسی طرح کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔'

روہتک میں نیم فوجی دستوں کی 23 کمپنیوں کے ساتھ ساتھ خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔

ہریانہ ڈی جی پی نے گرمیت رام رحیم کے خیموں کو خالی کرائے جانے کے معاملے پر بتایا ہے کہ سرسا کے علاوہ ہریانہ کے تمام ڈیروں کے احاطے خالی کروا لیے گئے ہیں جبکہ بعض احاطوں کو سیل بھی کر دیا گیا ہے۔ ہریانہ میں کل 131 ڈیرے ہیں۔ ان میں سے 103 کی تلاشی لی جا چکی ہے۔ ڈیرہ ہیڈکوارٹر سرسا میں انٹرنیٹ کی سہولت کو بند کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

گرمیت رام رحیم سنگھ کو ریپ کیس میں مجرم ٹھہرائے جانے کے بعد بھڑکنے والے تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے۔ اس میں سے پنچکولہ میں 32 اور سرسا میں چھ افراد ہلاک ہوئے۔

ہریانہ ڈی جی پی نے بتایا ہے کہ ہریانہ میں سرسا کے علاوہ اب کہیں کرفیو نہیں ہے۔

ہریانہ سے لے کر قومی دارالحکومت دہلی کے کئی علاقوں تک کئی شہروں میں پیر کو سنائی جانے والی سزا کے پیشِ نظر سرکاری سکول بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔