اجنتا کی نقاشی: جذبات کے اظہار کی معراج

  • سلمیٰ حسین
  • ماہر طباخ، دہلی
،تصویر کا کیپشن

یونیسکو کے مطابق غاروں کے یہ مجموعے مختلف زمانے میں وجود میں آئے ہیں

اورنگ آباد مغربی ہندوستان کا ایک چھوٹا شہر ہے جو اجنتا کے غاروں کو شمال مغربی پہاڑوں میں چھپائے اور دنیا کو ان کا گرویدہ بنائے ہوئے ہے۔

چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے یہ 30 غار بودھ مذہب کی عظمت، مہاتما بدھ کی زندگی کے حالات اور مذہبی افکارو خیالات کے ترجمان ہیں۔

انیسویں صدی کے اوائل میں ایک انگریز افسر جان سمتھ شکار کی غرض سے اس علاقے میں پہنچا جہاں اسے جھاڑیوں اور خود رو درختوں کے درمیان کسی غار کا دروازہ نظر آیا۔ پاس ہی کھڑے ایک چرواہے نے ان کی مدد کی اور انھیں غار کے اندر لے گیا۔ غار خستہ حالت میں تھا لیکن چٹانوں پر نقش و نگار اب بھی قابل ذکر تھے۔

آس پاس کے گاؤں والے ان غاروں کی موجودگی سے بخوبی واقف تھے۔ جان سمتھ نے ان گاؤں والوں کی مدد سے پورا علاقہ صاف کروایا کیونکہ انھیں اندازہ تھا کہ یہ غار کس قدر اہم اور نقش و نگار کتنے نایاب ہیں۔ سمتھ نے ایک غار کی چٹان پر اپنا نام اور اس دن کی تاریخ کندہ کی۔

،تصویر کا کیپشن

غاروں میں موجود نقاشی سے اس دور میں خواتین کی عظمت کا پتہ چلتا ہے

سنہ 1822 میں ایک دوسرے شخص ولیم آئیکسن نے ان غاروں پر مبنی ایک مقالہ پڑھا اور صدیوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ان غاروں کو زندہ جاوید کر دیا۔ بہت جلد یہ غار اپنی نقاشی اور سنگ تراشی کے بہترین نمونوں کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہوئے اور دنیا بھر سے نامور نقاش اور سنگ تراش انھیں دیکھنے آنے لگے۔ دھیرے دھیرے یہ غار سیاحوں کا محبوب مرکز بن گئے۔

جب اورنگ آباد کا علاقہ ریاست حیدرآباد کا حصہ بنا تو نظام نے ان غاروں کی تجدید پر توجہ دی اور سنہ 1920 میں غاروں کو میوزیم کی شکل دی، آمد و رفت کے ذرائع فراہم کیے اور داخلے کی فیس مقرر کر دی۔ آج بھی لوگ جوق در جوق ان غاروں کو دیکھنے آتے ہیں۔

عالمی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ یہ 30 غاروں کا یہ مجموعہ مختلف زمانے میں بنا ہے۔ پہلا مجموعہ قبل مسیح کا ہے تو دوسرا مجموعہ بعد از مسیح کا ہے۔ الغرض اجنتا کے ان غاروں کی نقاشی قابل دید ہے جو تیز رنگوں سے بنائی گئی ہے اور تصویریں ہوش ربا منظر پیش کرتی ہیں۔ نقاشی میں استعمال کیے جانے والے رنگی بیشتر، سرخ، زرد، بھورے، کالے یا سفید ہیں۔ لاجورد اور زرد رنگ کی آمیزش سے سبز رنگ تیار کیا گيا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی رنگ کو نقاشی میں دوبارہ استعمال نہیں کیا گيا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

ان غاروں میں مہاتما بدھ کے آثارو احوال کو پیش کیا گيا ہے

یہ غار مہاتما بدھ کے آثار کا آئینہ ہیں اور بودھ مت کی مختلف کہانیوں کے عکاس ہیں۔ اس کے ذریعے بودھ مت کی تاریخی اور تہذیبی عظمت کے ساتھ مصوری کی ارتقائي صورت بھی نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ان کی ساخت، چہروں پر چھائے جذبات، حرکات و سکنات کے دلفریب انداز ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ جن کا تصور برسوں تک دماغ سے محو نہیں ہوتا۔

اجنتا کے غاروں کی نقاشی کا سب سے بڑا راز ان کی خطوط کشی ہے۔ خطوط کا جتنا نظر نواز استعمال اجنتا کی نقاشی میں پایا جاتا ہے اس کی مثال کسی اور جگہ نہیں ملتی ہے اور ایسا جان پڑتا ہے کہ تصویریں ابھی بول پڑیں گی۔

کنول کے پھول کو اجنتا کی مصوری میں ہر موقع پر کام میں لایا گيا ہے اور کنول کی یہ امتیازی شان ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی۔اس کی نرم و نازک پنکھڑیوں سے لے کر ڈنٹھل تک کی نقاشی میں وہ حس ہے کہ اصل کا دھوکہ ہوتا ہے۔

،تصویر کا کیپشن

یہ غار دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کاباعث ہیں

عورت کی عظمت کو اجنتا کی نقاشی میں نمایاں مقام دیا گيا ہے جس سے ان دور میں عورت کے مرتبے کی نشاندہی ہوتی ہے۔

ہاتھی کی تصویر کشی بھی اجنتا کی مصوری کا خاص موضوع ہے۔ ڈیزائن سازی میں غاروں کے نقاش اپنا جواب نہیں رکھتے۔ دیوی دیوتاؤں، چرند و پرند اور انسانوں سے لے کر پھولوں کو اس طرح منقش کیا ہے کہ:

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است

سکندر علی وجد کی ایک خوبصورت نظم اجنتا کے غاروں کی بہترین عکاسی کرتی ہے:

بہانہ مل گیا اہل جنوں کو حسن کاری کا

اثاثہ لوٹ ڈالا شوق میں فصل بہاری کا

چٹانوں پر بنایا نقش دل کی بے قراری کا

سکھایا گر اسے جذبات کی آئینہ داری کا

دل کہسار میں محفوظ اپنی داستاں رکھ دی

جگر داروں نے بنیاد جہان جاوداں رکھ دی

یہ تصویریں بظاہر ساکت و خاموش رہتی ہیں

مگر اہل نظر پوچھیں تو دل کی بات کہتی ہیں

گلستان اجنتا پر جنوں کا راج ہے گویا

یہاں جذبات کے اظہار کی معراج ہے گویا

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔