’ریاستی حکومت گجرات فسادات میں تباہ ہوئی مذہبی عمارتوں کا ہرجانہ دینے کی پابند نہیں‘

گجرات تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 15 سال قبل گجرات میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں تباہ ہونے والی مساجد اور دیگر مذہبی عمارات کی تعمیر نو کا خرچہ اٹھانا ریاستی حکومت پر لازم نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ منگل کو ایک اسلامی فلاحی تنظیم کی جانب سے دائر درخواست پر دیا۔

سپریم کورٹ نے انڈیا ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے کو کالعدم کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ گجرات کی ریاستی حکومت 2002 میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں مذہبی عمارتوں کو نقصان کی تعمیر نو یا مرمت کا خرچہ نہیں اٹھائے گی۔

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق گجرات حکومت کے وکیل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے خود ہی کچھ رقم مختلف عمارتوں، دکانوں اور مکانوں کی مرمت اور تعمیر نو کے لیے مختص کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی اس سکیم کو منظور کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے قبل ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا کہ 2002 کے فسادات میں 500 مزارات کو نقصان پہنچا جس کی مرمت یا تعمیر نو کا خرچہ ریاستی حکومت اٹھائے۔

یاد رہے کہ 2002 میں گجرات میں ہونے والے فسادات کے دوران نریندر مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔

گودھرا میں 59 ہندو کارسیوکوں کے قتل کے بعد ہونے والے تشدد میں 1000 سے بھی زیادہ مسلمان ہلاک کر دیے گئے تھے۔ ان کے ہزاروں مکانات اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں