ڈوکلام پر انڈین اور چینی میڈیا آمنے سامنے

ڈوکلام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھوٹان اور چین کی سرحد ڈوکلام پر انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی بظاہر ختم ہو گئی ہے

انڈیا اور چین کا میڈیا ڈوکلام پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں اپنے اپنے انداز میں بات کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ چین اور انڈیا کے درمیان بھوٹان کی سرحد ڈوكلام پر گذشتہ تین ماہ سے کشیدگی تھی لیکن گذشتہ روز فوج واپسی کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کی میڈیا اسے اپنے اپنے ممالک کی جیت بتا رہے ہیں۔

انڈین میڈیا ڈوكلام سے فوجیوں کی واپسی کو 'نئی دہلی کی جیت' بتا رہا ہے تو چینی میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ 'فوج ہٹانے کے انڈیا کے فیصلے سے چین خوش ہے۔'

٭ انڈیا چین کشیدگی میں کون ہارا اور کون جیتا؟

٭ سرحدی تنازع: انڈیا کو بات چیت کی امید، چین کا انکار

ڈوكلام ہمالیائی علاقے کا وہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں جون کے مہینے میں اس وقت تنازع پیدا ہو گیا تھا جب چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر کی کوشش کو انڈیا نے فوجی بھیج کر روک دیا تھا۔

چین اور بھوٹان کے درمیان اس خطے پر تنازع ہے اور انڈیا بھوٹان کے دعوی کی حمایت کرتا ہے۔

پیر کے روز، انڈیا اور چین نے اس بات کی تصدیق کی کہ ڈوکلام پر جاری تنازعات کو ختم کرنے کے لیے ان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے۔

انڈین میڈیا: آخر کار چین جھک گیا

انڈین میڈیا میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈوكلام کے مسئلہ پر انڈیا کی بڑی سفارتی جیت ہوئی ہے اور تبعضے نے اسے چین کے لیے باعث خفت قرار دیا ہے۔

ہندی اخبار امر اجالا نے اپنی ویب سائٹ پر 'آخرکار انڈیا کے سامنے جھکا چین' کی سرخی کے ساتھ یہ خبر شا‏ئع کی ہے۔

انگریزی اخبار اکنامک ٹائمز نے لکھا کہ 'چین گرجنے والا وہ بادل ہے جو برس نہیں سکتا۔'

اخبار لکھتا ہے کہ 'چین نے جنگ چھیڑنے کی دھمکی سے لے کر بغاوت بھڑکانے تک انڈیا کو ڈرانے کی تمام کوششیں کی۔ چھوٹے ممالک کو اس سے یہ پیغام گیا کہ چین اپنی دھمکی کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھانے والا نہیں ہے۔'

کچھ رپورٹس میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ برکس ممالک کا سربراہی اجلاس تین سے پانچ ستمبر کے درمیان چین میں ہونے والا ہے اور شاید اسی وجہ سے دونوں ملک معاہدے کے لیے تیار ہوئے ہیں۔

انگریزی خبروں کی نیوز ویب سائٹ انڈیا ٹوڈے نے لکھا ہے، برکس کانفرنس کی وجہ سے چین اپنے موقف پر نظر ثانی کے لیے مجبور ہوا۔ برکس کانفرنس کی کامیابی کے بارے میں سوالات پیدا ہونے لگے تھے۔

جبکہ بعض ذرائع ابلاغ نے چین کے دعووں کا بھی ذکر کیا ہے۔ چین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انڈیا نے متنازع علاقے سے اپنی فوج ہٹا لی ہے۔

نیوز ویب سائٹ ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے: 'ایک طرف انڈیا کہہ رہا ہے کہ فوجیوں کی واپسی ہو رہی ہے جبکہ چین کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے میں اپنی گشت جاری رکھے گا۔'

چینی ذرائع ابلاغ: انڈیا نے تجاوزات ہٹا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ ہفتے چین میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس کے لیے ڈوکلام تعطل ختم کیا گیا ہے

چین کا سرکاری میڈیا وزارت خارجہ کے حوالے سے بطور خاض یہ بتا رہا ہے کہ 'ڈوكلام سے فوجیوں کی واپسی کے انڈیا کے فیصلے سے چین خوش ہے۔'

سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کا کہنا ہے کہ چین نے وہاں کا دورہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ انڈیا اس علاقے سے اپنے فوجی اور عسکری ساز و سامان ہٹا رہا ہے۔

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کا کہنا ہے کہ چین نے ڈوکلام کے سلسلے میں پرامن معاہدے تک پہنچنے میں ایک ذمہ دار فریق کا کردار ادا کیا ہے۔

اخبار نے اپنی انگریزی ویب سائٹ پر لکھا ہے، انڈیا نے ڈوكلام کے سطح مرتفع پر چینی علاقے میں تجاوز کرنے والے اپنے فوجیوں کو ہٹا لیا ہے۔

چین کی سوشل میڈیا ويبو پر بھی ڈوكلام کا ذکر زور شور سے ہے اور ہزاروں لوگ اس معاملے پر تبصرہ کر رہے ہیں۔

ایک ویبو صارف نے لکھا ہے کہ ڈوکلام سے انڈین فوجیوں کو ہٹانے کا کام جنگ کے بغیر مکمل ہو گیا ہے۔

جبکہ بعض صارفین نے چین سے اپیل کی ہے کہ وہ وہاں سڑک کی تعمیر کا کام جاری رکھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں