’بیوی کے ساتھ زبردستی سیکس، جرم قرار نہ دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

انڈیا میں 'میریٹل ریپ' یعنی بیوی کے ساتھ زبردستی ہم بستری قانون کی نظر میں کوئی جرم نہیں ہے، یعنی اگر شوہر اپنی بیوی کی رضامندی کے بغیر اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرے تو اسے جرم نہیں سمجھا جاتا۔

مرکزی حکومت نے 'میریٹل ریپ' یعنی بیوی کے ساتھ زبردستی ہم بستری کو قانونی طور پر جرم قرار دینے کے لیے دائر کی جانے والی درخواست کے جواب میں کہا ہے کہ اس سے شادی کا ادارہ کمزور ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے شادی کے رشے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

اسقاط حمل کی اجازت نہ ملی، دس سالہ بچی ماں بننے پر مجبور

مرکزی حکومت نے دلی ہائی کورٹ میں کہا کہ 'میریٹل ریپ' کو غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا غلط استعمال ہونے کا اندیشہ ہے اور اسے شوہروں کو تنگ کرنے کے لیے ایک آسان ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایسے میں ایک سوال یہ ہے کہ ریپ اور ازدواجی ریپ میں کیا فرق ہے اور اس سے شادی جیسے بندھن کو کس طرح نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کے سیکشن 375 کے مطابق، اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ان میں سے چھ حالات میں جنسی تعلق قائم کرتا ہے تو اسے ریپ کہا جائے گا:

Image caption 12 برس سے کم عمر کی بیوی کے ساتھ جنسی تعلق ریپ کے زمرے میں آتا ہے
  • عورت کے رضامندی کے بغیر
  • اگر عورت کو ڈرا دھمکا کر یا اس کے کسی عزیز کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دیکر اس کے رضامندی حاصل کی گئی ہو۔
  • عورت کی رضامندی ہو لیکن اس وقت عورت کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو یا پھر اسے کوئی نشیلی دوا دی گئی ہو اور لڑکی یا عورت سیکس کے لیے رضامندی دیتے وقت پورے ہوش وحواس میں نہ ہو۔
  • لڑکی کی عمر 16 برس سے کم ہو تو اس کی رضامندی سے قائم کیا گیا جنسی تعلق بھی ریپ کے زمرے میں ہی آئے گا۔
Image caption بھارتی قانون ریپ کی تشریح تو کرتا ہے لیکن اس میں 'میریٹل ریپ' کا کوئی ذکر نہیں ہے

آئی پی سی ریپ کی تشریح تو کرتا ہے لیکن اس میں 'میریٹل ریپ' کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

سیکشن 376 ریپ کے لیے سزا تجویز کرتا ہے لیکن اس میں بیوی سے جنسی تعلق اس وقت ریپ کے زمرے میں آتا ہے جب بیوی 12 برس سے کم عمر کی ہو۔ اس کے تحت ایسے شوہر کو دو سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

375 اور 376 کے دفعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنسی تعلق کے لیے کم از کم 16 برس کی عمر ہے لیکن سیکس کے لیے 12 برس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کی رضامندی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

ہندو میرج ایکٹ کیا ہے

ہندو میرج ایکٹ شوہر اور بیوی کے درمیان ایک دوسرے کے تئیں مخصوص ذمہ داریوں کا فیصلہ کرتا ہے اور ان میں جنسی تعلق کا حق بھی شامل ہے۔

قانون کہتا ہے کہ جنسی تعلق کے لیے انکار کرنا ایک ظلم ہے اور اس کی بنیاد پر طلاق کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں