’وہ جیل میں ہیں تو کیا ہوا گرو ہمیشہ گرو ہی ہوتا ہے'

سروج یادو

انڈیا کی ریاست ہریانہ میں ایک مذہبی رہنما گرمیت رام رحیم کے شاندار زوال کی کوریج میں ایک چیز کی کمی تھی اور وہ تھے ان کے سینکڑوں ہزاروں عقیدت مندوں کی غیر حاظری۔

گرمیت رام رحیم دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں اس کے عقیدت مندوں کی تعداد چھ کروڑ ہے لیکن شاید یہ مبالغہ آرائی ہو تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہت سے افراد کے لیے یہ شخص حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے، جو دینی ہونے کا دعوی کرتے ہیں.

گرو گرمیت رام رحیم کو ریپ کے دو مقدمات میں دس دس برس قید کی سزا

ہریانہ: 'صاف ظاہر تھا کہ ہنگامہ آرائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی تھی'

'وفاقی اور ریاستی حکومتوں کا ردعمل سیاسی سرینڈر کے علاوہ کچھ نہیں تھا`

شوخ و متحرک شخصیت کے مالک 'راک سٹار گرو' گرمیت رام رحیم

ان کی ایک پیرو کار سروج یادو نے مجھے بتایا ' گرمیت رام رحیم میرے والدین کی طرح تھے بلکہ ان سے کچھ زیادہ تھے۔'

تین بچوں کی ماں سروج ہماری باتوں سے بظاہر پریشان تھیں جب ہم ان سے پوچھا کہ گرمیت رام رحیم نے ان کی زندگی اور ان کے خاندان میں کیا کردا ادا کیا۔؟

سروج نے مجھے بتایا ' میں گذشتہ 25 سالوں سے ان کی پیرو کار ہوں۔ میرے خاندان کی تین نسلیں ان کی پیروکار رہی ہیں۔ میں اپنے بچوں کو ڈیرہ میں واقع سکولوں اور کالجوں میں بھیجتی ہوں۔'

خیال رہے کہ انڈیا کے قصبے پنچکلا میں ایک خصوصی عدالت کی جانب سے جمعے کو ڈیرہ سچا سودا نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے گرو گرمیت رام رحیم کو ریپ کے مقدمے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد ان کے پیروکاروں نے سخت احتجاج کیا تھا۔ انھوں نے میڈیا کی گاڑیوں، سرکاری عمارات، ٹرینوں، بسوں اور ریلوے سٹیشنز کو آگ لگا دی تھی۔

گرمیت رام رحیم کے پیروکاروں کا احتجاج پورے انڈیا میں پھیل گیا اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم سے کم 40 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

جب میں نے سروج یادو کو اس بارے میں بتایا تو انھوں نے افسردگی کے ساتھ اپنا سر جٹھکتے ہوئے کہا ' گرمیت رام رحیم کے متعدد پیروکاروں کی طرح میں اور میرا خاندان ان افراد کے افعال کی وجہ سے شرمندہ ہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'گرمیت رام رحیم نے ہمیں دوسرے لوگوں کی خدمت کرنا سکھایا، وہ غریب لوگوں کو رہنے کے لیے جگہ فراہم کرتے ہیں اور ان کی بہت مدد کرتے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ گرمیت رام رحیم کے سچے پیروکار کبھی بھی تشدد میں ملوث نہیں ہوتے ہیں۔

سروج یادو کے بیٹے سونو یادو اس بات سے متفق ہیں ان کا کہنا ہے 'گرمیت رام رحیم ہمیں اخلاقی اقدار کا درس دیتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم کس طرح اچھے انسانوں کی طرح زندگی گذار سکتے ہیں۔'

گرمیت رام رحیم ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے تاہم اب وہ خود کو 'خدا کا پیامبر' قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ 'وہ مقدس پیر' ہیں۔

سروج یادو کے خاندان کی طرح گرمیت رام رحیم کے متعدد پیروکاروں کو اس بات کا یقین ہے کہ گرمیت کے پاس جادوئی طاقتیں ہیں۔

سروج یادو کے مطابق 'گرومیت کی جادوئی طاقتیں ہمیں ہمارے راستے میں آنے والی کسی بھی مصیبت سے بچاتی ہیں۔'

ان کا مزید کہنا ہے 'گرمیت رام رحیم نے ہمیں بہت سی مشکلات سے بچایا ہے۔'

سروج کے بیٹے کا کہنا تھا 'ہم جو گرو منتر گاتے ہیں وہ ہمیں بہت زیادہ اعتماد دیتا اور ہماری روح کو مضبوط کرتا ہے اور یہ کسی جادو سے کم نہیں ہے۔'

ان کا کہنا تھا 'بعض اوقات ہم اس طرح کی صورتِ حال جیسے کہ ٹریفک حادثات سے محفوظ رہتے ہیں اور یہ سب بابا جی کی دعائیں ہیں۔'

سروج کے بیٹے سونو نے چند سالوں پہلے اپنے والد کے بیمار ہونے کے ایک واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب ان کے والد کو فالج کا اٹیک ہوا اور اس کی وجہ سے ان کا جسم ایک جانب ڈھل گیا تو وہ انھیں لے کر قریب کے بڑے ہسپتال گئے۔

سونو نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی ہم نے اپنے والد کو سرجری کے لیے آپریشن تھیٹر لایا گیا تو 'ڈاکٹروں نے انھیں تندرست قرار دے کر واپس بھیج دیا' اس سے زیادہ گرمیت رام رحیم کی جادو طاقتوں کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔'؟

گرمیت رام رحیم نے گذشتہ چند برسوں میں پردہ سکرین پر بھی اپنے جلوے دکھا کر اپنی ہر فن مولا شخصیت کا سکّہ منوایا۔

انھوں نے سنہ 2015 میں فلم بنائی جس کا نام 'ایم ایس جی: میسنجر آف گاڈ' تھا۔ وہ اس فلم کے مصنف، شریک ہدایتکار، موسیقار اور گلوکار تھے۔ اگلے ہی برس انھوں نے اس فلم کا 'ایم ایس جی 2: میسنجر آف گاڈ' سیکوئل بھی بنایا۔

اس فلم نے بڑے پیمانے پر شائقین کو متاثر کیا جس میں انھوں نے خود کو خلائی مخلوقات، بھوتوں اور ہاتھیوں سے تنہا لڑتے ہوئے اور معاشرے کے مسائل کو اکیلے ہی حل کرتے ہوئے دکھایا۔

اپنی شبیہہ بنانے کی انھی کوششوں کی وجہ سے انھیں ’راک سٹار بابا' کہا جاتا تھا۔ انھیں زیور سے مزین رہنے کی وجہ سے 'چمکیلے زیور والا گرو' بھی کہا جاتا تھا۔

اس بارے میں سونو کا کہنا ہے کہ گرومیت رام رحیم کی اس کوشش کا مقصد نوجوانوں تک پہنچنا تھا۔

لیکن جب میں نے ان سے گرمیت رام رحیم کو ریپ کے ایک معاملے میں مجرم قرار دیے جانے پر سوال پوچھا تو پورے خاندان نے اپنے سر جھٹک دیے۔

اس بارے میں سونو کا کہنا تھا 'ہمیں اپنے گرو پر پورا یقین ہے، یہ سیاستدانوں کی ووٹ لینے کی سازش ہے، عدالت نے ایک بے نامی خط پر فیصلہ سنایا ہے جو کہ غلط ہے، سب کو معلوم ہے کہ سچ کیا ہے۔'

سونو کی والدہ سروج اس بات سے متفق ہیں ان کا کہنا ہے کہ 'عدالت سے فیصلے سے بہت زیادہ صدمہ پہنچا ہے، گرومیت رام رحیم پر عائد کیے جانے والے تمام الزامات جھوٹ ہیں۔'

سونو کا کہنا ہے 'امید چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں گرو جی کو اسی طرح جانتا ہوں جس طرح اپنے خاندان کو جانتا ہوں، ہم ہمیشہ اپنے گرو کے دکھائے ہوئے راستے پر چلیں گے۔'

سروج کا کہنا ہے 'وہ ہمارے لیے خدا سے بڑھ کر ہیں، مجھے یقین ہے کہ وہ واپس آئیں گے اور آخر میں سچ غالب آئے گا۔'

'میں کبھی امید نہیں چھوڑوں گی، میں ڈیرہ آتی جاتی رہوں گی، ہم جانتے ہیں کہ گرو جی واپس آئیں گے، ان کی دعائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔'

’تو کیا ہوا وہ جیل میں ہیں گرو ہمیشہ ہی گرو ہوتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں