پاکستان کے ساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے: اشرف غنی

اشرف غنی تصویر کے کاپی رائٹ ARG

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے عید کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے جامع سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کابل میں صدارتی محل میں تقریر کرتے کہا کہ پاکستان کے ساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے، ایک ایسا امن جس کی بنیاد سیاسی نظریے پر ہو۔'

انھوں نے کہا کہ ساری دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ اس ملک کو زور سے کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن خطے کی سلامتی کی خاطر ہم منطق اور استدلال کے تحت ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔'

٭ ’پاکستان کو قربانی کا بکرا بناکر امن نہیں لایا جاسکتا‘

٭ ’اشرف غنی کا بیان افسوسناک لیکن قابلِ فہم ہے‘

٭ پاکستان افغانستان مذاکرات کی فلاپ فلم

٭ ’پاکستان نے رویہ نہ بدلا تو امریکی مراعات کھو سکتا ہے‘

٭ ’پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی امریکی صلاحیت محدود‘

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے ہیں۔ اس سال مئی میں صدر غنی نے پاکستان کے دورے کی دعوت یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ ’میں تب تک پاکستان نہیں جاؤں گا جب تک پاکستان مزار شریف، امریکن یونیورسٹی کابل اور قندھار حملوں کے ذمہ داروں کو افغانستان کے حوالے نہیں کرتا اور پاکستان میں موجود افغان طالبان کے خلاف عملی طور پر قدم نہیں اٹھاتا۔‘

اس کے علاوہ وہ پاکستان پر متعدد بار الزام لگا چکے ہیں کہ وہ ان طالبان جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے جو افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔ پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

صدر غنی نے جمعے کے روز عید اضحیٰ کی نماز کے تقریر کرتے ہوئے باغیوں اور جنگجوؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ امن عمل کا حصہ بنیں: 'افغانستان کے مسلح دشمنوں کے پاس ایک راستہ ہے۔ وہ وقت آ گیا ہے کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ افغان ہیں اور انھیں افغان ماؤں نے پالا ہے۔ میں سب کی طرف امن کا ہاتھ بڑھا رہا ہوں، اور کہتا ہوں کہ امن خدا کا حکم ہے۔'

اس تقریر میں انھوں نے امن کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کے دروازے طالبان سمیت سب کے لیے کھلے ہیں لیکن ہم کسی کی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔

رواں سال میں افغانستان میں طالبان جنگجو خاصے سرگرم رہے ہیں اور کابل شہر خاص طور پر ان کے نشانے پر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں