'بابا اپنے سادھوؤں کو نامرد بناتے تھے'

رام رحیم سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مذہبی گرو بابا رام رحیم کو ریپ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 20 سال کی سزا سنائی گئی ہے

انڈیا میں ریپ کے جرم میں سزا پانے والے مذہبی رہنما گرمیت رام رحیم سنگھ کے سادھوؤں نے اُن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انھیں نامرد بناتے تھے۔

گرمیت رام رحیم سنگھ کے خلاف اپنے سادھوؤں کو گمراہ کرنے اور انھیں نامرد بنانے کا مقدمہ پنجاب اور ہریانہ کی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

اس سلسلے میں ڈیرہ سچا سودا کے سابق سادھو ہنس راج نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

انھوں نے الزام لگایا ہے کہ ڈیرہ کے سربراہ رام رحیم نے تقریباً پانچ سو سادھوؤں کو نامرد بنا دیا اور اب ان کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔

٭ گرو گرمیت رام کو دو مقدمات میں دس دس برس قید

٭ 'گرو تو ہمیشہ گرو ہی ہوتا ہے'

بی سی سی کے ساتھ بات چیت میں ہنس راج نے وضاحت کی کہ ڈیرہ کے سربراہ نے سادھوؤں کو نامرد بنانے سے پہلے گھوڑے پر تجربات کیے۔ جس کے بعد، پہلے سینیئر اور پھر جونیئر پیروکاروں کو نامرد بنایا گیا۔ یہ کام بابا کے آبائی گاؤں گروسر موڈیا کے ہسپتال میں انجام دیا گيا۔

ہنس راج کہتے ہیں: جب سادھوؤں کی تعداد بڑھ گئی تو سرسا کے ڈیرے کی پہلی منزل پر قائم عارضی ہسپتال میں یہ آپریشن ہوتا رہا۔

'امرت رس پلا کر بےہوش کیا جاتا تھا'

تصویر کے کاپی رائٹ PRABHU DAYAL
Image caption ہنس راج نے بابا رام رحیم کے خلاف سنہ 2012 میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا

سادھو نامرد بنانے کے آپریشن پر کیوں رضامند ہوتے تھے اس سوال کے جواب میں ہنس راج نے وضاحت کی ہے کہ انھیں خدا کا قرب حاصل کرنے اور عقیدت مندی کے راہ پر کامیابی کا فریب دیا گيا تھا۔

انھوں نے کہا: 'پیروکاروں کو نامرد بنانے سے پہلے انھیں سیاہ رنگ کی گولیاں اور امرت رس شربت پلایا جاتا تھا۔ اس سے پیروکار بے ہوش ہو جاتے اور ان کے عضو تناسل کا آپریشن کردیا جاتا اور وہ نامرد ہوجاتے۔

ڈیرہ کے سابق سادھو ہنس راج کہتے ہیں بابا (رام رحیم) ان نامرد بنائے جانے والے سادھوؤں کو اپنے خاندان اور غار کی حفاظت پر تعینات کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ڈیرے میں سینکڑوں ایکڑ زمین ان سادھوؤں کے نام ہے، لیکن ان کی پاور آف اٹارنی بابا کے پاس رکھی ہوئی ہے۔

ہنس راج بتاتے ہیں کہ وہ دھوکے میں آکر نامرد بن گئے لیکن تین دن بعد ہی انھیں اس بات پر پچتاوا ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRABHU DAYAL
Image caption ڈیرہ سچا سودا کے حامیوں کی تعداد کروڑوں میں بتائی جاتی ہے

وہ کہتے ہیں: 'میں نے سات سالوں کے بعد اس کے بارے میں خاندان کو بتایا۔ اسے سن کر سب ہکہ بکہ رہ گئے۔ ماں اس غم میں بیمار ہو کر انتقال کر گئيں۔ صدمے میں والد بلو رام نے بھی دنیا چھوڑ دی۔'

ہنس راج بتاتے ہیں کہ ان کے اہل خان نے ان کا رشتہ پنجاب کے چاندو گاؤں میں طے کیا تھا لیکن ڈیرہ کے سربراہ نے ان کے گھر جا کر انھیں سادھو (راہب یا تارک دنیا) بنانے کی پیشکش کی۔

انھوں نے کہا: 'پہلے تو میرے خاندان والے اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ پھر بابا کے پیروکاروں کے کہنے پر میں نے زہر پینے کا ڈرامہ کیا۔ مجبور ہو کر انھوں نے مجھے اجازت دی اور میں کیمپ میں جاکر سادھو بن گیا۔'

'مخالفت پر قتل کر دیا جاتا تھا'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابا رام رحیم سنگھ کی زندگی کثیر جہتی تھی۔ وہ فلم ساز اور اداکار بھی رہ چکے ہیں

ہنس راج نے بتایا کہ اس طرح کے سادھوؤں ’ست برہمچاری‘ کہا جاتا تھا۔ انھیں ڈیرہ کے سکول کے بچوں کا بچا کھچا کھانا کھلایا جاتا تھا۔

وہ کہتے ہیں: 'اگر کسی وجہ سے کوئی سادھو ناراض ہو جاتا تو بابا انھیں اپنے استعمال کردہ جوتے، گھڑی، یا پیالے دے کر خوش کر دیا کرتے تھے۔ لیکن اگر کوئی سادھو مخالفت کرتا تو اسے ڈیرے میں ہی مار کر غار کے پاس باغ میں موجود موٹر نمبر چار کے پاس صبح چار بجے جلا دیا جاتا۔

ہنس راج کا دعوی ہے کہ اگر کوئی ایجنسی اس کی تحقیقات کرے تو اسے انسانی ڈھانچے ابھی بھی وہاں سے مل سکتے ہیں۔ انھوں الزام لگایا کہ ہاسٹل میں رہنے والی کئی طالبہ کو بھی موت کی نیند سلا دیا گيا جن کا آج تک پتہ نہیں چلا۔

'ابھی بھی جان کا خطرہ ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ PRABHU DAYAL
Image caption ہنس راج کہتے ہیں کہ انھیں اب بھی جان کا خطرہ ہے

ہنس راج نے بی بی سی کو بتایا کہ نامرد بنانے کا یہ معاملہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اگلی سماعت 25 اکتوبر کو ہو گی۔

سادھویوں کے ساتھ ریپ کے معاملے میں گرمیت رام رحیم سنگھ کو عدالت سے سزا ملنے کے بعد ہنس راج پر امید ہیں کہ اس مقدمے میں بھی بابا کو سزا ملے گی۔

اُن کا کہنا ہے کہ ڈیرہ کے گرو بظاہر جیل میں ہیں لیکن انھیں اپنی جان کا خطرہ اسی طرح ہے جیسے پہلے تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں