انڈیا: ماں نے بیٹی پر تیندوے کا حملہ ناکام بنا دیا

تیندوا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیندوے نے چھوٹی بچی پرحملہ کر دیا تھا

انڈیا کی ریاست اترپردیش میں ایک ماں نے اپنی بچی پر تیندوے کا حملہ ناکام بنا دیا ہے۔

تیندوے کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش میں بچی کے سر پر چوٹیں آئی ہیں لیکن اُس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

یہ واقعہ ضلع بہرائچ میں موتی پور رینج کے جنگلات کے قریب اُس وقت پیش آیا، جب چھ سالہ بچی اپنے گھر کے باہر کھیل رہی تھی کہ اچانک ایک تیندوے نے اُس پر حملہ کر کے اُسے دبوچ لیا۔

اس سے پہلے کہ وہ بچی کو لے کر بھاگ جاتا، اُس کی ماں تیندوے پر جھپٹ پڑیں۔

تیندوے کے ساتھ کافی زور آزمائی کے بعد ماں اپنی بچی چھڑوانے میں کامیاب ہوئیں لیکن اس لڑائی میں کمسن بچی شدید زخمی ہو گئی جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

زخمی بچی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق 'بچی کے سر پر شدید چوٹیں ہیں اور ایک کان مکمل طور پر چیتے نے کاٹ لیا ہے۔‘

بی بی سی سے بات چیت میں بچی کی ماں سنندا نے بتایا کہ وہ گھر میں کھانا پکا رہی تھیں اور اُن کی بیٹی باہر دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ اسی وقت تیندوا آیا اور اس نے بچی کو دبوچ لیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے تو بچی زور سے چلائی لیکن جب اس کی آواز آنا بند ہوئی تو میں نے باہر نکل کر دیکھا تو حیران رہ گئی لیکن میں نے بچی کے دونوں پیر زور سے پکڑ لیے۔‘

Image caption سنینا اپنی بچی کے ساتھ ضلع بہرائج کے ہسپتال میں

سنینا نے بتایا ہے کہ تیندوے نے مضبوطی سے بچی کو منہ میں پکڑ رکھا تھا تاہم اس وقت تک بچی زندہ تھی۔

وہ کہتی ہیں: 'میں بچی کے دونوں پیر اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور تیندوا بچی کے سر کو منہ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ کافی دیر تک میں اس سے لڑتی رہی، پھر موقع پا کر میں اس کے اوپر گر گئی اور اس طرح بچی کو تیندوے سے چھڑوانے میں کامیاب ہوئی۔'

سنینا کا کہنا ہے کہ تیندوے سے بچی کو چھڑوانے کے بعد انھوں نے بلند آواز سے چیخ ماری جس کی وجہ سے گاؤں کے دیگر لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔

انھوں نے بتایا کہ لڑکی کو چھوڑنے کے بعد تیندوے اور زیادہ جارحانہ ہو گیا لیکن اس وقت تک گاؤں کے لوگ وہاں پہنچ چکے تھے اور انھوں نے اسے مار بھگایا۔

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اکثر چیتے اور تیندوے گاؤں میں آ کر بھیڑ بکریاں اٹھا کر لے جاتے ہیں اور کئی بار تنہا ہونے پر وہ بڑے لوگوں پر بھی حملہ کر دیتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں