بلٹ ٹرین نظر بھی نہیں آئے گی

مودی، شنزو آبے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے جاپان میں بلیٹ ٹرین کی سواری سے قبل

انڈیا میں ٹرینیں اب کچھ اس رفتار سے چلیں گی کہ سفر کب شروع ہوا اور کب ختم یہ بھی پتا لگانا مشکل ہو جائے گا۔

آپ کب احمدآباد سے ٹرین میں سوار ہوئے اور کب ممبئی اتر گئے، کسی کو خبر نہیں ہوگی۔

بلٹ ٹرین بننے میں تقریباً پانچ سال لگیں گے لیکن اگر دیر بھی ہوئی تو لوگ یہ ہی سوچیں گے کہ ٹرین چل رہی ہوگی، بس نظر نہیں آرہی۔

گولی کو بندوق کی نال سے نکلتے ہوئے اور اپنے ہدف تک پہنچتے ہوئے کس نے دیکھا ہے؟

انڈیا میں اس ٹرین سے بہت کچھ بدلے گا۔ جاپان سے اس کے تعلقات اور گہرے ہو جائیں گے اور چین کو یہ پیغام جائے گا کہ ’ون بیلٹ ون روڈ‘ پالیسی پر ہی دنیا ختم نہیں جاتی، ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں اور وہاں بلٹ ٹرین آسانی سے دن میں دو چکر لگا سکتی ہے۔

جاپان کے لیے بھی یہ اچھی خبر ہے۔ اس کی انقلابی تیز رفتار ٹرینوں کے لیے ملک سے باہر یہ پہلا بڑا پراجیکٹ ہے، جسے پورا کرنے کے لیے زیادہ تر رقم آسان قرض کی شکل میں جاپان ہی فراہم کر رہا ہے۔ پراجیکٹ پر کل لاگت تقریباً 17 ارب ڈالر بتائی جارہی ہے۔

ریلوے کے وزیر اب پیوش گوئل ہیں، انھوں نے کچھ ہی روز پہلے چارج سنبھالا ہے کیونکہ یک بعد دیگرے کئی حادثوں کے بعد وزیراعظم نے پرانے وزیر سریش پربھو کا قلمدان بدل دیا تھا۔

سریش پربھو کے ذہن میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ کاش اتنی بڑی رقم ریلوے کے موجودہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر خرچ کی جاتی تو کروڑوں لوگوں کو فائدہ ہوتا اور ان کی نوکری بھی بچی رہتی۔

لیکن جب کوئی بڑی انقلابی تبدیلی ہوتی ہے تو اعتراض کرنے والوں کی کمی نہیں ہوتی۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انڈیا کو فی الحال بلٹ ٹرین کی ضرورت نہیں ہے اسے موجودہ ٹرینوں کی رفتار بڑھانے اور سیفٹی کا ریکارڈ بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایک لاکھ کروڑ روپے ملک میں تعلیم اور حفظان صحت کا حلیہ بدلنے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن یہ ہی بات انڈیا کے خلائی پروگرام کے لیے بھی کہی جاتی ہے۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ نئی ٹکنالوجی نئے دروازے کھولتی ہے جیسا 1980 کے عشرے میں ہوا تھا جب جاپان کی ہی سوزوکی کار کمپنی نے انڈیا میں ماروتی کے نام سے چھوٹی گاڑیاں بنانا شروع کی تھیں۔ اور کچھ ہی برسوں میں ماروتی نے انڈیا میں کار انڈسٹری کی سوچ ہی بدل دی تھی۔

جب جاپانی بلٹ ٹرین چلنے لگے گی تو مسافروں کو موجودہ روایتی‘ ٹرین ’دیسی پستول‘ کی طرح لگنے لگیں گی، جس کے چلنے کا کبھی بھروسہ نہیں ہوتا۔

بہرحال، فی الحال لوگ فزکس کے کافی پیچیدہ سوال بھی پوچھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر نئی بلٹ ٹرین میں گولی چلائی جائے تو وہ کبھی نشانے تک پہنچے گی یا نہیں، یا بیچ میں ہی معلق رہے گی کیونکہ ٹرین بھی بلٹ کی رفتار سے ہی چل رہی ہوگی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیا بلٹ ٹرین کے اگلے ڈبے سے آپ پچھلے ڈبے تک جاسکیں گے اور اگر ہاں تو آخری ڈبے تک پہنچنے کے لیے کس رفتار سے چلنا ہوگا!

یہ ریل گاڑیاں 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ جب راجدھانی ایکسپریس ٹرین چلائی گئی تھیں تو بہت لوگوں نے اعتراض کیا تھا، اب سب ان پر سفر کرنا چاہتے ہیں۔

ٹوئٹر پر ایک شخص نے لکھا ہے کہ اگر ایل کے اڈوانی جیسا کوئی سندھی وزیراعظم ہوتا تو وہ جاپان سے صرف صفر اعشاریہ ایک فیصد پر ملنے والی 88 ہزار کروڑ روپے کی رقم بینک میں ڈالتا اور اس پر ملنے والے سود سے ایک ایئرلائن بھی شروع کرتا اور جاپان کا قرض بھی لوٹا دیتا۔

آپ احمدآباد سے ممبئی دو گھنٹے میں پہنچیں یا چار میں، کیا فرق پڑتا ہے۔

لیکن شاید سب سے اچھا طنز ایک کارٹون کی شکل میں کیا گیا ہے جس میں مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی ممبئی کی لوکل ٹرین پر سوار ایک شخص کہہ رہا ہے کہ میں اب وراڑ (ممبئی کا نواحی علاقہ) سے احمدآباد منتقل ہوجاؤں گا، بلیٹ ٹرین چلنے کے بعد وہاں سے ممبئی آنا زیادہ آسان ہوجائے گا!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں