انڈین کشمیر میں پاکستانی بہو کے پکوانوں کی دُھوم

ماہ نور
Image caption ماہ نور کا کہنا ہے کہ لاہور کے پررونق بازار سے سرینگر کی خاموش شام بہت مختلف ہے

لاہور کی رہنے والی ماہ نوُر پاکستان میں فیزیوتھیرپسٹ تھیں۔ تین سال قبل ان کی شادی سرینگر کے راج باغ علاقے میں رہنے والے اپنے ہی کزن حمزہ فاروق کے ساتھ ہوئی۔

حمزہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد خاندانی تجارت میں ہی تھے لیکن شادی کے بعد ماہ نُور فیزیو رہیں نہ حمزہ تاجر۔ دونوں نے اپنے ہی گھر میں لذیذ پکوانوں کا کاروبار شروع کردیا ہے۔

٭ کشمیر کی ضيافتیں

٭ تندوری مرغ کی کہانی

ماہ نُور کو بچپن سے ہی کُکنگ کا شوق تھا اور شادی کے بعد جب ان کے ہاتھ کا کھانا ان کے سُسرال والوں نے کھایا تو وہ انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔

حمزہ کہتے ہیں: 'میرے ایک چچازاد بھائی نے کھانا کھاتے ہی کہا کہ یار تم لوگ ریستوران کھول دو، خوب بزنس ہوگا۔'

Image caption ماہ نور اور حمزہ نے ساتھ مل کر گھر سے ہی کھانا تیار کرکے ہوم ڈلیوری کرتے ہیں

اس طرح حمزہ نے تجارت چھوڑ دی، اور ماہ نُور نے فیزیوتھیرپی کے شعبہ میں نوکری کی تلاش۔ آج کل دونوں راج باغ میں واقع اپنے ہی گھر کے اندر 'پاک فوڈ ایکسپریس' نام سے ہوم ڈیلوری ریستوران چلاتے ہیں، اور لوگ مزے لے لے کر ماہ نور کے پکوان کھاتے ہیں۔

ماہ نور کہتی ہیں کہ کشمیر میں کھانوں اور مختلف پکوانوں کا کلچر نہیں ہے۔ 'جہاں دیکھو وازوان ہے، اور کچھ بھی نہیں۔ ہمارے یہاں طرح طرح کی چیزیں ہیں۔ ہم نے پاکستانی بریانی، حلیم، تندوری مرغ وغیرہ سے ہی شروع کیا، پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کو پیار بھی ہے لہذا یہاں پاکستانی پکوان فوراً مقبول ہوگئے۔ لیکن ہم چینی، اطالوی اور دوسرے ملکوں کی ریسیپیز پر بھی کام کررہے ہیں۔'

Image caption ماہ نور کے ہاتھ کے بنے پاکستانی کھانے بہت جلد مقبول ہو گئے

کشمیر میں پاکستانی شہریوں کے لیے زندگی آسان نہیں ہوتی۔ گو ماہ نور کو ایک سال کا ویزا دیا گیا ہے تاہم شہر سے باہر جانا ہو، کسی پیشہ وارانہ کالج میں داخلہ لینا ہو یا کوئی اور کام کرنا ہو تو اس کے لیے سرکاری اجازت ایک طویل اور تھکا دینے والا عمل ہے۔

انھوں نے کہا: 'یہی وجہ ہے کہ ہم نے گھر سے ہی شروع کیا، لیکن لوگوں کا ردعمل دیکھ کر اب ہم باقاعدہ ریستوران کی سوچ رہے ہیں۔'

ماہ نوُر پہلے پہل کشمیر میں بوریت کا شکار تھیں۔ 'لاہور میں دیر رات تک لوگ کھاتے پیتے ہیں، بازاروں میں رونق ہوتی ہے۔ لیکن یہاں سات بجے کے بعد سناٹا ہوتا ہے۔ اب سردیاں آرہی ہیں مجھے ڈر لگتا ہے، کیونکہ یہاں میں گھٹن کا شکار ہوجاتی ہوں۔ شکر ہے ہم نے پاک فوڈ ایکسپریس شروع کیا، ورنہ میرا تو دم ہی گھٹ جاتا۔'

حمزہ اور ماہ نور 'پاک فوڈ ایکسپریس' کی وجہ سے خوش ہیں۔ حمزہ کہتے ہیں: 'اچھی بات یہ ہے کہ ہم دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں