انڈیا: کھلے میں رفع حاجت کے خلاف 'ہلہ بول، لنگی کھول' مہم

پولیس تصویر کے کاپی رائٹ RANCHI MUNICIPAL CORP
Image caption رانچی کی میئر کا کہنا ہے کہ صفائی مہم جاری رہے گی

انڈیا میں کھلے میں رفع حاجت کے خلاف مختلف قسم کی مہم جاری ہیں اور لوگوں کو کھلی جگہ پر رفع حاجت کرنے سے باز رکھنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے رانچی میونسپل کارپوریشن کی انفورسمنٹ ٹیم ان دنوں ایک مہم چلا رہی ہے جس کا انھوں نے 'ہلہ بول، لنگی کھول' نام دیا ہے۔

٭ ٹوائلٹ نہ بنانے پر خاتون کو طلاق کی اجازت

اس کے تحت وہ کھلی جگہ پر رفع حاجت کرنے والے کو شرمندہ کرتے ہیں اور ان پر جرمانہ بھی کرتے ہیں۔

رانچی کی نامکم بستی کی ببیتا منڈا بتاتی ہیں کہ اتوار کو ان کے خاوند کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔

انھوں نے صحافی روی پرکاش کو ایک ہی سانس میں بتایا: 'وہ رفع حاجت سے آ رہے تھے کہ ان لوگوں (میونسپل کارپوریشن والوں) نے راستے میں انھیں پکڑ لیا اور پوچھا کہ بابو کہاں گئے تھے؟ انھوں نے بتا دیا کہ پاخانے سے آ رہے ہیں۔ صبح کے چھ بج رہے تھے۔ انھوں نے پوچھا کھلے میں کیا ہے۔ اور پھر انھیں ندی کی طرف لے گئے۔ اٹھک بیٹھک کرائی، 100 روپے جرمانہ وصول کیا، تصویر کھینچی اور پھر کہیں جا کر چھوڑا۔ کچھ دوسرے لڑکوں کو بھی پکڑا۔ کئی کی تو لنگی بھی کھلوا دی۔ سب نے ڈر کے جرمانہ ادا کر دیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ RANCHI MUNICIPAL CORP
Image caption پولیس نے کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کو شرمسار کرنے کے ساتھ ان پر جرمانہ بھی عائد کیا ہے

ببیتا کے شوہر بھیم کو سرعام بے عزت کیا گیا۔ میونسپل کارپوریشن نے میڈیا کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا ہے جس پر ایسے لوگوں کی تصویریں پوسٹ کی جا رہی ہیں۔ ان تصاویر کو مقامی اخباروں میں شائع کیا جاتا ہے۔

ببیتا منڈا نے بی بی سی کو بتایا: میرے گھر میں کوئی ٹوائلٹ نہیں ہے۔ شوہر مزدوری کرتے ہیں۔ کمائی اتنی نہیں کہ ٹوائلٹ بنوا سکیں۔ کبھی کبھی تو دن بھر کی مشقت کے بعد مشکل سے100 روپے کی آمدن ہوتی ہے۔ جب جرمانہ لیا تو گھر میں پیسے نہیں تھے۔ بہت منت سماجت کی لیکن انھوں نے نہیں سنی اور ان کی تصویر لے کر انٹرنیٹ پر ڈال دی۔‘

کیا میونسپل کارپوریشن نے آپ کو ٹوائلٹ بنانے کے لیے رقم نہیں دی؟ اس کے جواب میں ببیتا نے کہا: ' کتاری بگان کی اس بستی میں 14 مکانات ہیں۔ ان میں سے ایک یا دو گھروں میں ہی بیت الخلا ہے۔ کئی لوگوں کو آدھے پیسے (چھ ہزار روپے) دیے گئے اس لیے ٹوائلٹ نہیں بن سکا۔ ایسے حال میں ہم لوگ کھلے میں رفع حاجت کو مجبور ہیں۔ ہمیں بھی ایسا کرنا اچھا نہیں لگتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ RANCHI MUNICIPAL CORP
Image caption رانچی میں اس مہم کی تصاویر خود پولیس نے واٹس ایپ گروپ پر جاری کی ہے اور مقامی اخبارات میں اس کی اشاعت بھی ہوئی ہے

اسی بستی کے دکھوا منڈا کی بیٹی نے بتایا: 'ماں نے ٹوائلٹ بنوانے کے لیے دو دو بار درخواست دی۔ اسی دوران ماں مر گئی لیکن ٹوائلٹ نہیں بنا۔ ایسے میں ہم کہاں جاتے۔ مجبوری میں ہم رات ہی رفع حاجت کے لیے نکل جاتے ہیں۔‘

جھارکھنڈ فاؤنڈیشن کے صدر اور سینیئر صحافی ویشنو راجگڑھیا اس مہم کے مخالف ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'صفائی کی مہم ٹھیک ہے لیکن جس طرح سے لوگوں کی لنگی کھلوائي جا رہی ہے یا انھیں گھر سے کافی دور لے جاکر چھوڑا جا رہا ہے یہ قابل مذمت ہے۔ ایسا کرنے سے آپ ملک میں ترقی نہیں لا سکتے۔'

رانچی کی میئر آشا لکڑا نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ 'ہلہ بول، لنگی کھول' مہم کو روک دیا گيا ہے۔ یہ صرف ایک دن کے لیے چلائی گئی تھی۔

'ہم صفائی ستھرائی کی مہم تو جاری رکھیں گے لیکن لنگی کھول جیسے طریقے نہیں اپنائیں گے۔ بہت سارے مقامات پر عوامی ٹوائلٹ بھی تعمیر کیے گئے ہیں، لوگوں کو ان کا استعمال کرنا چاہیے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں