کولکتہ میں بگ بین، ٹاور برج اور لندن آئی

لندن کا بگ بین تصویر کے کاپی رائٹ RONNY SEN
Image caption اس بار کولکتہ میں درگا پوجا کے موقع پر لندن کے معروف گھنٹہ گھر 'بگ بین، ٹاوڑ برج اور لندن آئی کو بھی پیش کیا گيا ہے

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں روائتی طور پر درگا پوجا کا تہوار ہر برس بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔

یہ ریاست میں منایا جانے والا سب سے بڑا اور مقبول ترین سالانہ تہوار ہے جس میں بڑے بڑے، خوبصورت اور بھر پور سجاوٹ والے پنڈال بنائے جاتے ہیں جنھیں بڑی تعداد میں لوگ دیکھنے آتے ہیں۔

کولکتہ میں ہولی کے رنگوں کی برسات

ہندو بیویوں کی عید کیسے گزرتی ہے؟

نو روزہ فیسٹیول کے دوران شہر کے تقریباً ہر علاقے میں پنڈال بنائے جاتے ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے یہ پنڈال تخلیقی صلاحیتوں اور شان و شوکت کی مقبول علامت بن گئے ہیں۔

درگا سونے کی ساڑھی میں تصویر کے کاپی رائٹ RONNY SEN
Image caption درگا کی سونے کی اس ساڑھی کا وزن 22 کلو گرام ہے جس کی قیمت تقریبا سوا چھ کروڑ روپے ہے

فوٹو گرافر رونی سین نے ایک تقریب کی تصاویر جمع کی ہیں جس کی خاصیت یہ تھی کہ اس میں لندن کا عکس نمایاں تھا۔ ان میں دیوی درگا کے اس مجسمے کی تصاویر بھی شامل ہیں جس میں انھیں 22 قیراط خالص سونے سے بنی ساڑھی پہنے دکھایا گیا ہے۔

سونے کی اس ساڑھی کا وزن 22 کلو گرام ہے جس کی قیمت تقریبا سوا چھ کروڑ روپے ہے۔ اسے ڈیزائنر اگنی مترا پال نے خاص طور پر اس تہوار کے لیے ڈیزآئن کیا ہے جس میں نقاشی کے لیے قیمتی اور چمکدار پتھروں کا استعمال کیا گيا ہے۔

درگا سونے کی ساڑھی میں تصویر کے کاپی رائٹ RONNY SEN
Image caption اس ساڑھی کے ساتھ دیوی درگا کے اس مجمسے کو بنانے کے لیے 50 فنکاروں نے تقریبا ڈھائی ماہ تک کام کیا

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق 50 کے قریب ہاتھ سے دستکاری کرنے والے کاریگروں نے دیگر ملبوسات کی تیاری کے لیے تقریباً ڈھائی ماہ کے عرصے تک کام کیا۔

دیوی درگا کا یہ مجسمہ اس پنڈال میں رکھا ہے جو لندن کے بکنگھم پیلیس کے طرز پر بنایا گیا ہے۔ شہر کے سنتوش مترا اسکوائر میں رکھے گئے اس مجسمے کو خاص طور پر پوجا فیسٹیول کے لیے بنایا گيا ہے۔

بکنگھم پیلیس تصویر کے کاپی رائٹ RONNY SEN
Image caption شہر کے سیالدہ پارک میں بکنگھم پیلیس کا یہ ریپلکا درگا پوجا فیسٹیول کے لیے بنایا گيا ہے

پنڈال میں رکھے گئے دیگر مجسموں میں لندن کے معروف گھنٹہ گھر 'بگ بین، ٹاوڑ برج اور لندن آئی کو بھی پیش کیا گيا ہے۔

کولکتہ میں درگا پوجا کا فیسٹیول مہنگی اور شاندار سجاوٹ کے لیے مشہور ہے اور اب مختلف پنڈالوں کے درمیان اسی سجاوٹ کی بنیاد پر مقابلہ بھی ہونا شروع ہو گیا ہے۔

لندن کا ریپلکا تصویر کے کاپی رائٹ RONNY SEN

اس سے قبل جن چیزوں کے مجسمہ بنائے گئے تھے ان میں پیلی ٹیکسیاں، مائی ترائی ایکسپریس ٹرین جس نے انڈیا سے بنگلادیش کا سفر کیا تھا اور بودھ پگوڈا کے مجسمے شامل تھے۔

بگ بین کا مجسمہ جو اس فیسٹول کے لیے بنایا گیا ہے، اپنی نوعیت کا پہلا نہیں ہے۔ بگ بین کا مجسمہ اس سے پہلے سنہ 2015 میں بھی درگا پوجا کے موقع پر بنایا گيا تھا۔ اس وقت ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے خود اپنی نگرانی میں اسے بنوايا تھا تاکہ تہوارکے موقع پر کولکتہ کو لندن جیسا دکھایا جا سکے۔

ریپلکا آف ٹاور برج تصویر کے کاپی رائٹ RONNY SEN
Image caption لندن کے ٹاور برج کے آس پاس تاڑ کے درختوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ لندن نہیں بلکہ کوئی اور جگہ ہے

اس برس دیگر پنڈالوں نے بھی توجہ حاصل کی ہے جن میں بیرونی ممالک کی معروف چیزوں کی نقل پیش کی گئی ہے جیسے تھائی لینڈ کا 'وائٹ ٹیمپل' وغیرہ۔

درگا پوجا کے موقع پر حالات حاضرہ کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے بھی اسی مناسبت سے اہم چیزوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

فیسٹیول کے دوران حالات حاضرہ اور سماجی مسائل کی جانب نشاندہی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ سنہ 2013 میں ریپ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ایک مجسمہ بنایا گیا تھا جبکہ دوسرا مجسمہ ایک کشتی کا تھا جس سے دریائے گنگا میں آلوگی کا مسئلہ اجاگر کیا جا رہا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں