’سابق انڈین فوجی اپنی انڈین شہریت ثابت کرے‘

فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ضلعی پولیس نے اعظم الحق کے خلاف 25 مارچ 1971 کو آسام میں متعلقہ ضروری دستاویز کے بغیر آسام میں داخل ہونے کا مقدمہ درج کیا ہے

ایک انڈین فوجی جو فوج میں 30 سال خدمات سر انجام دینے کے بعد ریٹائرڈ ہوچکا ہے اب اس کو اپنی شہریت انڈین ثابت کرنے لیے کا کہا گیا ہے۔

مشرقی ریاست آسام میں حکام نے محمد اعظم الحق پر بنگلہ دیش کے غیرقانونی تارک وطن کا الزام عائد کیا ہے۔

انھیں چند ہفتوں میں فارنرز ٹریبیونل کے سامنے پیش ہونے کا حکم نامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

اعظم الحق اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب کوئی فوج میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو پولیس کی جانب سے تصدیق لازمی ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاست آسام میں حالیہ دنوں میں فارنرز ٹویبیونلز میں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ غیرقانونی تارکین وطن کا معاملہ بی جے پی کا اہم انتخابی موضوع ہے۔

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق اعظم الحق کو جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق ضلعی پولیس نے ان کے خلاف 25 مارچ 1971 کو آسام میں متعلقہ ضروری دستاویز کے بغیر آسام میں داخل ہونے کا مقدمہ درج کیا ہے، اسی رات پاکستان آرمی نے اس وقت کے مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز کیا تھا۔

چھ جولائی کو جاری ہونے والے نوٹس کے مطابق اعظم الحق کو 11ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے اپنی شہریت ثابت کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا ایسا نہ کرنے کی صورت میں یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

تاہم 49 سالہ اعظم الحق کو ان کے آبائی گاؤں کالاہیکش میں نوٹس دیر سے موصول ہوا جب کے بعد اب وہ 13 اکتوبر کو ٹریبونل کے سامنے پیش ہوں گے۔

اعظم الحق نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا: ’اس واقعے نے مجھے افسردہ کر دیا ہے۔ 30 سال قوم کی خدمت کرنے کے بعد اب ہمیں شناخت ثابت کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ یہ غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جانا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں