’امِت شاہ کے بیٹے کا کاروبار ایک سال میں 50 ہزار سے 80 کروڑ کا ہو گیا'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ درمیان میں امِت شاہ

بھارتی نیوز ویب سائٹ'دی وائر' کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما اور وزیر اعظم نریندر مودی کے نزدیکی ساتھی امِت شاہ کے بیٹے جے امِت شاہ کی کمپنی کا کاروبار 2014 اور 2015 میں پچاس ہزار روپے کا تھا جو اگلے ہی سال 80 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اسی سال نریندر مودی انڈیا کے وزیر اعظم بنے تھے۔

اس دعوے کے مطابق اگر ایک سینئیر رہنما اور پارٹی کے صدر کے بیٹے کے کاروبار میں ایک سال میں اتنا اضافہ ہو جائے تو خبر تو بنتی ہے۔ اگر باقی میڈیا اس خبر کے بارے میں بات نہیں کر رہا تو یہ کوئی نہیں بات نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امت شاہ کے معاملے کا موازنہ واڈرا کے کیس سے کیا جا رہا ہے

پچھلے تین چار سالوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ ایک طرح کا اتحاد بن چکا ہے جس میں کارپوریٹ مفادات کے ذریعے حکومت میڈیا کی آزادی کو کنٹرول کر رہی ہے اور یہ محض افواہ نہیں ہے کئی بڑے میڈیا ہاؤسز کو دباؤ میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔

وہیں دوسری جانب چھوٹے چھوٹے صحافتی ادارے اور صحافی اپنے محدود وسائل کے ساتھ حکومت اور کارپوریٹ کے خلاف رپورٹنگ کرنے کی ہمت کر رہے ہیں اور ان کے خلاف کروڑوں روپے کے ہتک عزت کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ کوشش یہی ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو ڈرا دھمکا کر چپ رکھا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میڈیا بی جے پی کے بارے میں کھل کر نہیں لکھ رہا

جے امِت شاہ کے دفاع میں مرکزی حکومت کے وزرا پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ یہ سب کانگریس کے زمانے میں بھی ہوا تھا جب کانگریس کے وزرا سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا کی حمایت میں بات کرتے تھے۔ اس وقت کانگریس نے جو کیا تھا وہ بھی بے شرمی تھی۔ کانگریس کے دور میں جو ہوا تھا اب بات اس سے آگے بڑھ چکی ہے اب بے شرمی کی حد پار کر لی گئی ہے۔

حالانکہ امِت شاہ کے بیٹے کے معاملے کا موازنہ رابرٹ وادرا کے معاملے سے کیا جا رہا ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس وقت رابرٹ وادرا کے معاملے کو میڈیا نے پوری طرح دکھایا تھا لیکن اب وہی میڈیا دہرا معیار اختیار کیے ہوئے ہے۔

کانگریس حکومت کے دور میں جب بدعنوانی کی بات اٹھی تو اسی میڈیا نے کھل کر لکھا تھا لیکن وہی میڈیا اب بی جے پی کے خلاف لکھتا ہے تو اسے ٹرول کیا جا رہا ہے۔

ظاہر ہے کہ آج میڈیا کی آزادی اور صحافیوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے اور یہ خطرہ بہت بڑا ہے۔

میڈیا چلانے والے بڑے بڑے کارپوریٹ سیکٹرز کے اپنے کاروباری مفادات ہیں جن کا فائدہ حکومت اٹھا سکتی ہے۔ اگرچہ کارپوریٹ اور میڈیا کا تعلق بہت پرانا ہے لیکن موجودہ حکومت نے اپنے مفاد میں اسکا بھر پور فائدہ اٹھایا ہے اور اس کا اثر ملک کے جمہوری نظام پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔