ماں کے ہاتھ کا کھانا چاہیے تو یہاں آئیں

مناف کپاڈیا اور ان کی والدہ نفیسہ کپاڈیہ تصویر کے کاپی رائٹ Rahul Akerkar
Image caption مناف کپاڈیا اور ان کی والدہ نفیسہ کپاڈیہ

ممبئی کے مکین مناف کپاڈیہ اپنے گھر میں ایک کامیاب ریسٹورنٹ چلا رہے ہیں جس کی ہیڈ شیف انہی کی والدہ نفیسہ کپاڈیہ ہیں۔

مناف کی زندگی میں سنہ 2014 میں ایک نیا موڑ آیا۔ وہ اتوار کی ایک سہ پہر تھی جب وہ اپنی امی کے ساتھ ٹی وی دیکھتے ہوئے بحث کر رہے تھے۔

اس وقت ان کی عمر 25 برس تھی اور وہ گوگل میں ملازمت کرتے تھے۔ ہوا یہ کہ وہ اپنے پسندیدہ کارٹون سمپسنز دیکھنا چاہتے تھے جب کہ ان کی والدہ اپنا پسندیدہ انڈین سوپ اوپرا اس لیے انھوں نے چینل تبدیل کر دیا۔

لیکن اس ایک واقعے نے مناف کپاڈیہ کو ایک نئی سوچ دی۔

وہ سمجھتے تھے کہ ان کی والدہ بہت سے امور میں ماہر اور باصلاحیت ہیں تاہم وہ اپنا زیادہ وقت فضول میں ٹی وی دیکھنے میں گزار دیتی ہیں۔

Image caption رات کے کھانے میں عموماً بوھری خوراک ہوتی ہے اور اسے پلیٹر میں پیش کیا جاتا ہے جسے ’تھال‘ کا نام دیا گیا ہے

اس بات کے لیے پرعزم کہ والدہ کو کچھ بامعنی کام کرنا چاہیے مناف کو اچانک ایک خیال آیا۔

نفیسہ ہمیشہ ہی بوہری کھانے بہت اچھے بناتی تھیں۔ یہ انڈیا میں وہ مشہور کھانا ہے جو ممبئی میں نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ اسی وقت مناف نے یہ بھی سوچ لیا کہ وہ اپنے 50 دوستوں کو ای میل کے ذریعے اپنے گھر لنچ کی دعوت دیں گے۔

مناف جو اب 28 برس کے ہو چکے ہیں نے اس بارے میں بتایا کہ انھوں نے جب دوستوں کو دعوت دی تو پھر اپنی والدہ کے ہاتھ کا بنا کھانا پیش کرتے ہوئے تمام دوستوں کو آٹھ آٹھ افراد کے گروپوں میں تقسیم کیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’پھر ہم نے ایسا ہر سنیچر اور اتوار کو کرنا شروع کر دیا، اسے عام لوگوں کے لیے بھی کھول دیا اور ایک ریسٹورنٹ کے لیے ان سے معاوضہ لینا شروع کر دیا اور یوں بوہری باورچی خانے کی ابتدا ہوئی۔‘

Image caption ہر ہفتے کپاڈیہ کے گھر پر بنے ریسٹورنٹ میں لوگ کھانا کھانے آتے ہیں

روایتی طور پر بوہری کھانے داؤدی بوہرہ نامی کمیونٹی میں ہی دستیاب ہوتے ہیں جو کہ مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے اور یہ انڈیا اور پاکستان کے کچھ علاقوں میں مقیم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس میں گجراتی، مغلانی اور مہاراشٹرین اثرات ہیں اور وہ اکثر ان مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ہمراہ ان پکوانوں کا مزہ لیتے ہیں جنھیں ایک سٹیل کے پلیٹر یا تھال میں پیش کیا جاتا ہے۔

پاپ اپ یعنی ہر ہفتے لنچ کی سہولت فراہم کرنے کے موقع پر پہلی بار مناف نے ایک صارف سے 700 روپے بِل لیا۔

Image caption یہ مٹن کھچڑا ہے جو بکری کے گوشت کو دال اور چاولوں کے ساتھ ملا کر پکایا جاتا ہے اس میں بہت سے انڈین مصالحے بھی ڈالے جاتے ہیں

بوہری کچن کے چند خاص پکوان:

  • مٹن کھچڑا ہے جو بکری کے گوشت کو دال اور چاولوں کے ساتھ ملا کر پکایا جاتا ہے اس میں بہت سے انڈین مصالحے بھی ڈالے جاتے ہیں۔
  • چنا بٹیٹہ تھولی، چنوں اور ٹماٹروں کی املی کی چٹنی میں تیار کی جانے والی ایک ڈش ہے۔
  • چکن انگارہ میں سموگڈ چکن کو ٹماٹروں کی گریوی کے اندر پکایا جاتا ہے اور چپاتی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

مناف کہتے ہیں کہ وہ اس وقت بہت حیران ہوئے جب ان کے دوستوں نے ان کی والدہ کو گلے لگا کر کہا کہ ’آنٹی آپ کے ہاتھ میں جادو ہے، یہ کھانا بہت زبردست ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ میں نے اس وقت اپنی والدہ کی آنکھوں میں چمک دیکھی جب انھیں سراہا جا رہا تھا، وہ اس کی عادی نہیں ہیں، کیونکہ ہم اپنے گھر میں ان کے پکوانوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے تھے۔

مناف نے بتایا کہ اس وقت انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس عمل کو جاری رکھیں گے۔ ’میں نے سوچا کہ نئے لوگوں کو اپنی والدہ کے کھانے کے ہنر سے متعارف کرنا جاری رکھوں گا۔‘

پھر یہ ہوا کہ مناف نے مارکیٹنگ کی نوکری چھوڑی اور جنوری سنہ 2015 میں ’دی بوہری کچن‘ کا افتتاح کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان پکوانوں کو کھانے والوں کی جانب سے تعریف نے جلد ہی کھانا کھانے کے شوقین نوجوانوں میں ان کے کچن کی ساکھ میں اضافہ کیا۔

اب کپاڈیہ لنچ اور کبھی کبھار ڈنر کی سہولت پر ایک کھانے کا 1500 روپے بل لیتے ہیں۔

اب انھوں نے اپنے ریسٹورنٹ سے باہر صارفین کے گھروں تک کھانا پہچانے کی سروس بھی شروع کر دی ہے اور اس کے علاوہ کیٹرنگ بزنس کا آغاز بھی کر چکے ہیں۔ یہ سروس وہ پورا ہفتہ فراہم کرتے ہیں اور ان کے سٹاف میں خاندان کے افراد کے علاوہ تین باہر کے لوگ بھی شامل ہیں۔

Image caption یہ بوہری کچن کا سموسہ ہے جس میں دنبے کا قیمہ، پیاز، دھنیہ اور لیموں ڈالا جاتا ہے

اب ان کی یہ فرم نے اتنا منافع کما چکی ہے کہ وہ انڈیا کے دوسرے علاقوں میں بھی اپنی شاخیں کھولنا چاہتے ہیں۔

لیکن یہ سب اتنا آسان اور سیدھا نہیں تھا۔ ایک چیز جس کے لیے مناف کو کچھ وقت لگا وہ تھا اپنے گھر میں انجان لوگوں کی میزبانی کرنا۔

وہ کہتے ہیں کہ وہاں گاہک آکر یونہی بیٹھ نہیں سکتے تھے بلکہ انھیں اس کی اجازت لینی ہوتی تھی۔ جس کے بعد وہ ان سے کچھ سوالات پوچھتے تھے تاکہ ان کے بارے میں ٹھیک سے جان سکیں۔

مناف کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ اور بھی مشکلات تھیں جن میں سب سے پہلے اپنے والدین کو اس بات کے لیے آمادہ کرنا شامل تھا کہ وہ گوگل سے نوکری کو خیرباد کہہ دیں اور یہ دیکھیں کہ اچھے سٹاف کو کیسے بھرتی کرنا ہے۔

'اب میرے لیے سب سے بڑا چیلینج یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ’ٹیک اوے‘ میں بھی اسی کولٹی کا کھانا پہنچایا جاتا ہے جو میری والدہ اپنے گھر میں بناتی ہیں۔'

ٹیکنوپاک ایڈوائزرز سے وابستہ راوندر یادیو کہتے ہیں کہ انڈیا میں کھانے کے کاروبار سے وابستہ لوگ اپنے لیے مستقل گاہک بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

’آج کل انڈیا میں جب لوگ گھر سے باہر کھانا کھانے کے لیے نکلتے ہیں تو ان کے پاس بہت سے آپشنز ہوتے ہیں۔ اس لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جانتے ہوں کہ آپ کا کسٹمر کون ہے، اور بڑے برینڈز کے لیے بھی کچھ ایسا بنانا ضروری ہوتا ہے کہ کسٹمرز واپس آتے رہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ اب بھی بہت سی چیزیں آسان ہوتی جا رہی ہیں۔

'آج کل انڈیا میں انویسٹمنٹ کے لیے تلاش قدرے کم مشکل ہے اور حکومت بزنس کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہے۔ اس لیے دیگر قواعد پورے کرنے کے لیے لائسنس لینا آسان ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Kinjal Pandya-Wagh
Image caption یہ دودھی حلوہ ہے جو لوکی کو چینی اور خشک میوہ جات میں ملا کر ہلکی آنچ میں پکایا جاتا ہے۔

انڈیا میں فوڈ انڈسٹری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ گذشتہ دہائیوں میں صارفین کا گھر سے باہر کھانا کھانے کا شوق یا گھر میں باہر سے کھانا منگوانے کے شوق کے ساتھ ساتھ ان کی خرچ کرنے کی استطاعت بھی بڑھی ہے۔

مناف کپاڈیہ کی والدہ جن کا کھانا پکانے کا ہنر 'دی بوہری کچن' کے پیچھے چھپا ہوا تھا کہتی ہیں کہ اس بزنس نے ان کی شخصیت کے ایک مختلف پہلو کو سامنے لایا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ میں نے کبھی بھی اسے کاروبار کی نظر سے نہیں دیکھا، یہ ایک ایسی چیز ہے جسے کرنے سے مجھے پیار ہے۔'

’اور جب مہمان کہتے ہیں کہ میرا پکایا ہوا کھانا انھیں اپنے گھر کی یاد دلاتا ہے تو یہ بہت حیران کن ہوتا ہے۔ اس سے بہت زیادہ اطمینان اور خوشی ہوتی ہے۔‘

لیکن کیا ان کا بیٹا ان کی ٹی وی دیکھنے کی عادت سے روک سکا ہے؟

یہ نہیں ہو سکا کیونکہ نفیسہ کپاڈیہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’میں اب بھی مہمانوں کے لیے کھانا بناتے ہوئے اپنے پسندیدہ سوپ دیکھتی ہوں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں