مودی ٹرولز کو فالو کیوں کرتے ہیں؟

مودی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وزیر اعظم نریندر مودی کو فالو کرنے والوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ ہے اور ٹویٹر پر دنیا کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔

بھارت کے ایوارڈ یافتہ اداکار پراکاش راج ان لوگوں کی طویل فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جو وزیر اعظم نریندر مودی سے یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر آوازیں کسنے والے یا جنھیں سوشل میڈیا کی زبان میں "ٹرولز" کہا جاتا ہے ان کو ٹویٹر پر فالو کیوں کرتے ہیں یا ان کی پیروی کیوں کرتے ہیں۔

اس اداکار کا کہنا ہے کہ اُسے اس بات پر کافی کوفت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ ان کی ایک دوست اور معروف صحافی گوری لنکیش کے قتل کے بعد کچھ لوگ سوشل میڈیا پر خوشیاں منا رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ میں یہ جان کر اور زیادہ پریشان ہوا کہ ان خوشیاں منانے والے لوگوں میں سے چند ایک کو مودی فالو کرتے ہیں۔

"ہمارے وزیر اعظم کچھ ایسے لوگوں کو ٹویٹر پر فالو کرتے ہیں جو انتہائی ظالمانہ رویہ رکھتے ہیں، اور ہمارے وزیر اعظم کی نظریں ان پر ہوتی ہیں"، یہ کہہ کر وہ بولے کہ "وہ پریشان ہیں اور ان کو دلی تکلیف ہوئی ۔۔۔۔۔۔ اور وہ یہ دیکھ کر ڈر گئے کہ کہ وہ (مودی) خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔"

ان کی اس بات پر ردعمل بہت تیزی سے آیا جو تند تھا، پراکاش راج پر تنقید کرنے والوں ان کو "مودی مخالف" قرار دیا اور ان کے تبصرے کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔

اس وقت بھارت کے وزیر اعظم ٹویٹر پر دنیا کے مقبول ترین رہنما ہیں، ان کے تقریباً ساڑھے تین کروڑ فالوورز ہیں یعنی جو ان کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ بہتات سے ٹویٹس کرتے ہیں جو زیادہ تر ان کے سرکاری امور، حکومتی پالیسیوں، اور دیگر امور کے بارے میں ہوتی ہیں جن میں خاص کر ایک صاف بھارت کا ان کا خواب ہے۔

مبصرین کے خیال میں دوہزار چودہ کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پھر پور کامیابی میں ان کی سوشل میڈیا پر موثر پالیسی کا اہم کردار تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی اپنی ٹویٹس میں چند ایک موضوعات پر بات کرتے ہیں اور ہر کس و ناکس کو شامل نہیں کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پراکاش راج بھارت کے ایک ایوارڈ یافتہ اداکار ہیں جو لاکھوں لوگوں کی طرح یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مودی ٹویٹر پر بدزبانی کرنے والے لوگوں کو کیوں فالو کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر اپنے تئیں گائے کی حفاظت کرنے والے قانون کا نفاذ کرنے والے انتہا پسند ہندو ہجوم کے ہاتھوں اس مسلمان کے قتل پر جو راجستھان سے گائیں لارہا تھا، اس پر مودی کی خاموشی پر سوالات اٹھے تھے، اور پھر اسی واقعے کے ایک ہفتے بعد، کئی لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا جب انھوں نے سٹاک ہوم کے واقعے پر اظہار افسوس کیا۔

لیکن اب کئی مہینوں کے بعد ناقدین اس پہلو پر بات کررہے ہیں کہ آیا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ وہ تویٹر پر وہ کیا پڑھ رہے ہیں یعنی کن کو فالو کررہے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ کیا کیا ٹویٹ کرتے رہے ہیں۔ مختصراً، وہ کن لوگوں کو پڑھ رہے ہیں۔

ایک ہزار آٹھ سو پینتالیس افراد جن کو مودی فالو کرتے ہیں ان میں کئی ایک سیاستدان ہیں، کچھ بیوروکریٹس ہیں اور چند ایک صحافی بھی ہیں، مگر آلٹ نیوز کے پراتیک سنہا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے ناقدین کو بدنام کرتے ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتہائی دہشت ناک زبان استعمال کرتے ہیں۔

پرتیک سنہا کا کہنا ہے کہ یہ سخت زبان استعمال کرنے والے بی جے پی کے فعال کارکنان ہیں جو لوگوں میں کام کرتے ہیں، جن کےلیے مودی کا ان کو فالو کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف ہے، یہ سارے کے سارے عورتوں کے بارے میں ایک ہتھک آمیز رویہ رکھتے ہیں اور ان کے خلاف بدترین زبان استعمال کرتے ہیں۔

گوری لنکیش کے قتل کے بعد سورت کے ایک بزنس مین، نکھیل دادھچ جنھیں مودی فالو کرتے ہیں، نے جو کچھ کہا وہ یہ تھا "ایک کتیا کتّے کی موت کیا مری سارے پلّے ایک سُر میں بلبلا رہے ہیں۔" نکھیل کی یہ ٹویٹ شور و غوغا مچنے پر ہٹا لی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Media Item
Image caption مودی ایک ایسے شخص کو بھی فالو کرتے ہیں جس نے صحافی گوری لنکیش کے قتل پر مذمتی بیانات کے بارے میں کہا "ایک کتیا کتّے کی موت کیا مری سارے پلّے ایک سُر میں بلبلا رہے ہیں۔"

پھر ایک اور پونے سے تعلق رکھنے والے صاحب اشیش مشرا جن کو مودی فالو کرتے ہیں نے گوری لنکیش کی خبر کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "جیسی کرنی ویسی بھرنی"۔

ان قابل مذمت ٹویٹس پر پر سخت ردعمل آیا، لیکن یہی مسئلہ ہے کہ ان ہی جیسے ٹویٹرز کو مودی فالو کرتے ہیں۔

کچھ غصے سے بھرے لوگوں نے تو مودی کے خلاف "بلاک مودی مہم" کا بھی آغاز کیا۔ اگرچہ اس مہم کو اتنی مقبولیت تو حاصل نہ ہوئی جتنی مودی کے مخالفین کی توقع تھی، لیکن اس کی وجہ سے بھارت میں ایک بھنبھناہٹ پیدا ضرور ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بی جے پی کے ترجمان شری امیت مالویا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ کسی کو بلاک کیا ہے اور نہ ہی کسی کو ان فالو کیا ہے۔

بی جے پی کی جانب سے ایک مودی کی ٹویٹر پالیسی پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ وہ ہر قسم کے لوگوں سے رابطہ رکھتے ہیں اور وہ عام لوگوں کو بھی فالو کرتے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کو وہ آزادی اظہار پر یقین رکھتے ہیں اور انھوں نے کبھی بھی کسی کو نہ بلاک کیا ہے اور نہ ان فالو کیا ہے۔

مگر آلٹ نیوز کے پراتیک سنہا کہتے ہیں کہ بی جے پی کی جانب سے یہ بیان جاری کرنے والے مسٹر مالویا اس بیان میں مکمل طور پر ایماندار نظر نہیں آتے ہیں کہ وزیر اعظم نہ کسی کو بلاک کیا ہے اور نہ کسی کو ان فالو کیا ہے۔ سنہا کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹر جوالا گوروناتھ نے بی جے پی کے ترجمان پر غیر اخلاقی حرکتیں کرنے کا الزام عائد کیا تھا تو مودی نے انھیں ان فالو کردیا تھا۔

اس آرٹیکل کے لکھنے سے پہلے مسٹر مالویا کو فون کرکے وزیر اعظم کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے بارے میں ان کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی مگر انھوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ انھون نے کہا "میں نے ایک بیان جاری کردیا ہے اور میرے پاس مزید کہنے کےلیے کچھ نہیں ہے۔"

وزیر اعظم ایک مصروف شخص ہیں اور انھوں نے لاکھوں کام دیکھنے ہیں، لہٰذا بقول پراتیک سنہا کے، یہ نا مُمکن ہے کہ وہ اپنا اتنا سارا وقت ٹویٹر پر گزارتے ہوں گے یا وہ خود اپنے اکاؤنٹ کو چلاتے ہوں گے۔

لیکن بعض خبروں کے مطابق وزیر اعظم صبح ہوتے ہی اپنا آئی پیڈ دیکھتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے بارے میں جو کچھ پوسٹ ہوتا ہے اسے دیکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کے ناقدین کے لیے یہ بات پریشانی کا باعث ہے کہ وہ اپنے حامیوں کی جانب سے تیزابیت سے بھری فیڈ دیکھتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں۔

گوری لنکیش کو اپنے گھر کے باہر قتل ہوئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے۔ ابھی تک پولیس نے کسی کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ اور نہ ہی وزیر اعظم نے کسی کو ان فالو کیا ہے۔

پراتیک سنہا کہتے ہیں: "مودی ایسے لوگوں کو ان فالو کیوں نہیں کردیتے ہیں؟ لیکن میرا خیال ہے کہ شاید یہی ان کی یہ سیاسی حکمت عملی ہے۔"

ان کا کہنا ہے کہ "یہ لوگ صرف ٹرولز (سوشل میڈیا پرآوازیں کسنے والے) نہیں ہیں۔ یہ لوگ پارٹی کے بہت اہم لوگ ہیں، یہ لوگ پارٹی کہ عوام سے رابطے رکھنے والے سپاہی ہیں۔"