انڈیا کی کمسن دلہنوں کے لیے انڈین سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا تبدیلی لائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملک میں 18 سال سے کم عمر کی اہلیہ کے ساتھ بھی جسمانی تعلق کو ریپ سمجھا جائے گا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کی بیوی اس سلسلے میں ایک سال کے اندر شکایت کر سکتی ہے۔

’نابالغ بیوی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنا جرم ہے‘

اس فیصلے کا مطلب کیا ہے؟

سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں درخواست 'انڈیپنڈنٹ تھاٹ' نامی تنظیم نے دائر کی تھی۔ یہ ادارہ بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین پر کام کرتا ہے۔

یہ معاملہ سنہ 2013 میں عدالت میں آیا تھا۔

'انڈیپنڈنٹ تھاٹ' کے وکیل ہردے پرتاپ سنگھ نے بی بی سی کو بتایا، 'فیصلے کے مطابق 18 سال تک کی عمر میں شادی شدہ لڑکی شادی کے ایک سال تک جسمانی جنسی تعلق کے خلاف شکایت کر سکتی ہے اور اسے ریپ مانا جائے گا۔ اس سے پہلے قانون میں عمر کی حد 15 سال تھی۔'

پہلے صورتحال کیا تھی؟

تعزیراتِ ہند کی دفعہ 375 کی شق دو میں ریپ کی جو تعریف کی گئی ہے اس کے مطابق، 15 سے 18 سال عمر کی بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات ریپ کے زمرے میں نہیں آتے۔

'انڈیپنڈنٹ تھاٹ' کے وکیل کے مطابق 'وہ پورے معاملے کو عدالت میں اس لیے لے کر گئے تھے کیونکہ ملک کے مختلف قوانین میں 'بچی' کی تعریف الگ الگ طریقے سے کی گئی ہے۔'

کمسن بچوں سے جنسی زیادتی کے بارے میں انڈیا میں 'پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفینس ایکٹ' یا 'پاکسو' نافذ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس قانون کے مطابق، 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے سے جنسی تعلق قانون کے مطابق جرم ہے یعنی اس قانون میں بلوغت کی تعریف کرتے ہوئے اس کے لیے مقررہ عمر 18 برس بتائی گئی ہے۔

اس طرح جیوینائل جسٹس ایکٹ میں بھی بالغ شخص کی عمر 18 سال قرار دی گئی ہے لیکن تعزیراتِ ہند کی دفعہ 375 کی شق دو میں یہ تعریف مختلف تھی۔

ان تمام بے ضابطگیوں کی وجہ سے بچوں سے منسلک تمام قوانین میں یکسانیت لانے کے لیے 'انڈیپنڈنٹ تھٹ' نے یہ پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس معاملے میں شکایت کا حق صرف متاثرہ بچی کے پاس ہے یا کوئی اور بھی یہ شکایت کر سکتا ہے۔

'انڈیپنڈنٹ تھاٹ' کے وکیل ہردے پرتاپ سنگھ کے مطابق، 'ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ایسی صورت میں شکایت کا حق کس کس کو ہوگا۔ فیصلے کی نقل ملنے کے بعد صورتحال زیادہ واضح ہو گی۔'

18 سال سے کم عمر میں شادی

انڈیا کے کئی علاقوں میں آج بھی لڑکیوں کی شادیاں 18 برس سے کم عمر میں ہو جاتی ہیں۔

2016 کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق ملک میں تقریباً 27 فیصد لڑکیوں کی شادی اس عمر سے قبل ہوئی ہے جبکہ سنہ 2005 میں کیے گئے اسی سروے کے مطابق اس وقت یہ شرح 47 فیصد تھی۔

یعنی گذشتہ ایک دہائی میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کی شرح میں 20 فیصد کمی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں