میرا بیٹا جہاں بھی ہے اللہ کی حفاظت میں ہے: گمشدہ نجیب کی ماں

Image caption نجیب کی والدہ پچھلے ایک سال سے اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے مظاہرے کر رہی ہیں

دلی میں سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن یعنی سی بی آئی کے ہیڈ کوارٹر کے باہر کچھ نوجوان مظاہرین سیلفی لے رہے ہیں اور وہیں مجیب کی ماں فاطمی نفیس گم سم بیٹھی ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم نجیب کو غائب ہویے پورا ایک سال ہو چکا ہے۔ اس ایک سال کے دوران نجیب کی ماں نے کئی مظاہرے کیے، پولیس کی لاٹھیاں کھائیں اور میڈیا کو کئی انٹرویو بھی دیئے۔

وہ گزشتہ چوبیس گھنٹے سے سی بی آئی کے کے باہر مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہر بار کی طرح اس بار بھی ایجنسی نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ نجیب کو تلاش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ovais sultan
Image caption ایک سال میں اپنے پرائے ہو گیے اور پرایے اپنے بن گئے: فاطمہ

دلی میں سیٹٹرل بیورو اف انویسٹی گیشن یعنی سی بی آئی کے ہیڈ کوارٹر کے باہر کچھ کچھ نوجوان مظاہرین سیلفی لے رہے ہیں اور وہیں مجیب کی ماں فاطمی نفیس گم سم بیٹھی ہیں۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم نجیب کو غائب ہویے پورا ایک سال ہو چکا ہے۔اس ایک سال کے دوران نجیب کی ماں نے کئی مظاہرے کیے ، پولیس کی لاٹھیاں کھائیں اور میڈیا کو کئی انٹرویو بھی دیئے۔

وہ گزشتہ چوبیس گھنٹے سے سی بی آئی کے کے باہر مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہر بار کی طرح اس بار بھی ایجنسی نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ نجیب کو تلاش کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ovais sultan
Image caption شرد پوار بھی نجیب کی ماں کے ساتھ مظاہرے میں شریک ہوئے

جب میں نے فاطمہ نفیس سے گفتگو شروع کی تو انکا کہنا تھا کہ سی بی آئی نے پچھلے چھ ماہ کے دوران جو کیا وہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے ذمہ داری سی بی آئی کو عدالت نے دی ہے اور انہیں عدالت کو جواب دینا پڑے گا۔ ’مجھے امید ہے کہ اس مظاہرے کا اثر ہوگا اور اگلی سماعت میں سی بی آئی عدالت کے سامنے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرے گی۔‘

نجب کے بغیر ایک سال

نجیب کے بغیر ایک سال کیسے گذرا اس بارے میں ان کی ماں کہتی ہیں میرے پاس یہ بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے دوران میں نے ایک ایک لمحہ درد محسوس کیا ہے۔

تمام مشکلات کے بعد بھی فاطمی نفیس نے اپنے بیٹے کے ملنے کی امید نہیں چھوڑی۔ ان کا کہنا تھا 'میں ایک امید کے ساتھ جی رہی ہوں اور یہ امید ہی میرا حوصلہ بڑھاتی ہے، میں اس پل کا انتظار کر ہی ہوں جب ہزاروں لوگوں کی امیدوں کا اثر ہوگا اور میرا بیٹا نجیب واپس لوٹے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ovais sultan
Image caption نجیب کی ماں کہتی ہیں جو لوگ ایک سال سے انکے ساتھ کھڑے ہیں وہی انکے اپنے ہیں

ایک ماں اپنے گمشدہ بیٹے کے لیے کیا کیا کر سکتی ہے فاطمی اس کی ایک مثال ہیں۔ وہ کہتی ہیں 'پچلے ایک سال کے دوران ایسا بہت کچھ ہے جو انکی زندگی میں پیچھے چھوٹ گیا ہے، رشتے دار غیر ہو گئے اور غیر اپنے بن گئے ہیں۔

انسانیت پر یقین

فاطمی کا کہنا ہے 'میں نےزندگی کے وہ رنگ دیکھ لیے ہیں جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ سال بہت تکلیف دہ رہا ہے جو خون کے رشتے تھے اب وہ دور ہوگئے اور جن سے انسانیت کا رشتہ تھا وہ قریب آگئے ہیں۔ اب میرے رشتے انہیں میں سے ہیں جو ایک سال سے میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ جو لوگ میرے ساتھ ہیں وہ اس بات کی علامت ہیں کہ ابھی انسانیت زندہ ہے۔

نجیب کے ساتھ دیکھے خوابوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی دکھائی دینے لگی۔ انکا کہنا تھا کہ 'میں نے نجیب کے ساتھ جو خواب دیکھے تھے وہ ابھی بھی آنکھوں میں ہیں۔‘

انہوں نے کہا میں سوچتی تھی میں اپنے بچوں کی تعلیم کے بعد انکی خوشیاں دیکھوں گی، انکے بچوں کے ساتھ وقت گذاروں گی اور مجھے امید ہے کہ میرے یہ تمام خواب پورے ہونگے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میرا نجیب جہاں ہے اللہ کی پناہ میں ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ وہ جب گھر سے نِکلا تھا میں نے اسے اللہ کی حفاظت میں دیا تھا اب وہ جہاں بھی ہوگا محفوظ ہوگا۔‘

لیکن ان کی آنکھوں کی چمک اچانک آنسوؤں میں تبدیل ہوگئی۔ ہمت کی مورت یہ ماں ٹوٹتی نظر آنے لگی اور لڑکھڑاتی آواز میں کہنے لگی میں بہت تھک گئی ہوں، بہت زیادہ تھک گئی ہوں اب مجھ سے چلا نہیں جاتا، بہت مجبور ہوں۔ میں ہوں تو اتنے لوگ یہاں ہیں اگر میں نہیں آؤنگی تو میرے بیٹے کے لیے کوئی نہیں آئے گا۔‘