نہ ریپ کیا نہ ہی بچی کو مارا، جوشوا کے الزامات محض پروپیگنڈا ہیں: افغان طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کینیڈین شہری جوشوا بوئل سنیچر کو کینیڈا میں اپنے گھر واپس پہنچے تھے

افغان طالبان نے پاکستان میں شدت پسندوں کے قبضے سے بازیاب کروائے گئے کینیڈین شہری جوشوا بوئل کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ اغوا کے دوران اُن کی بیوی کو ریپ کیا گیا اور ایک بیٹی کو قتل کیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے جوشوا بوئل کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مغربی حکومتوں کا پروپیگنڈا ہے۔

غیر ملکی خاندان کی بازیابی:’اسی تعاون کی توقع رکھیں گے‘

بالآخر امریکی مغوی کولمین کا ’ڈراؤنا خواب‘ ختم

مغویوں کی رہائی میں پاکستانی کردار’اچھے مستقبل کی نوید‘

میڈیا کو بھیجے گئے بیان میں کہا گیا ہے 'ہم کینیڈین خاندان کی جانب سے لگائے گئے جعلی اور من گھڑت الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں جو اب دشمنوں کے پاس ہے۔'

بیان میں ذبیع اللہ مجاہد نے کہا 'جو بیان دشمن اس خاندان سے دلوانا چاہتے ہیں وہ وہی بیان دیں گے۔'

افغان طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ جوشوا اور ان کی اہلیہ کو دانستہ طور پر علیحدہ نہیں کیا گیا تھا تاکہ ان وہ محفوظ رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ دوران قید جوشوا کے بچے کو ہلاک کیا گیا تھا تاہم ترجمان نے کہا کہ ایک بچہ بیماری کے باعث چل بسا تھا۔

'ہم ایک دور افتادہ علاقے میں تھے جہاں ڈاکٹر اور ادویات تک رسائی نہیں تھی جس کے باعث بچہ چل بسا۔'

واضح رہے کہ پاکستان کی فوج نے کینیڈین شہری جوشوا بوئل اور اُن کی امریکی اہلیہ اور تین بچوں کو قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ایک آپریشن کر کے بازیاب کروایا تھا۔ انھیں 2012 میں افغانستان سے اغوا کیا گیا تھا۔

جوشوا بوئل کا کہنا تھا کہ اغوا کے دوران اُن کی بیوی کو ریپ کیا گیا اور ایک بیٹی کو قتل کیا گیا۔

کینیڈا واپس پہنچنے پر جوشوا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے طالبان کی 'ظلم و زیادتی' کی داستان بیان کی۔

جوشوا بوئل اور ان کی امریکی بیوی کیٹلن کولمین کے والدین نے اپنے بچوں کے اس خطرناک ملک کے سفر کو 'ناقابلِ جواز' قرار دیا تھا۔

کیٹلن کولمین کے والد نے امریکی خبر رساں ادارے سے بات چیت میں کہا تھا کہ 'میں ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں جو اپنی حاملہ بیوی کو ایک خطرناک ملک لے جائے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دوسری جانب ٹورنٹو پہنچنے کے بعد جوشوا بوئل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'اُن کا خاندان افغانستان میں طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں موجود افراد کو امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور جس وقت انھیں اغوا کیا گیا تو ان علاقوں میں کسی این جی او، امدادی کارکن اور حکومتی افراد کو رسائی حاصل نہیں تھی۔'

اغوا کے وقت اُن کی اہلیہ حاملہ تھیں اور حمل کے آخری ایام تھے اور وہ پہلے بچے کو جنم دینے والی تھیں۔ طالبان کی قید سے بازیابی کے بعد اس خاندان کے تین بچے ہیں اور یہ تینوں بچے اغوا کے دوران پیدا ہوئے ہیں۔

جوشوا بوئل کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے چار بچے تھے اور ایک بیٹی کو حقانی نیٹ ورک سے وابستہ طالبان نے قتل کر دیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کی بیوی کا ریپ بھی کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کینیڈا میں جوشوا بوئل کے گھر کے باہر پولیس کا پہرا

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں