’آج کی رات یہ لگتا ہے پری آئے گی‘

دیوالی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیوالی کو روشنی کا تہوار بھی کہا جاتا ہے

دیوالی کا تہوار آتے ہی تاریخ کے ان اوراق کی یاد آجاتی ہے جو مغل بادشاہوں کے اشتراک کی کہانی کو بیان کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں لال قلعے کا رنگ محل جشن چراغاں کے لیے مخصوص تھا جہاں بادشاہ اور وزیر امرا کے ساتھ دیوالی کا لطف اٹھاتے تھے۔ حرم کے لیے مخصوص انتظام ہوتا تھا۔

راوی کے مطابق مہینوں پہلے دیوالی کا اہتمام شروع ہو جاتا تھا۔ ریاست کے مشہور و معروف حلوائی آگرہ، متھرا، بھوپال، اور لکھنؤ سے بلوائے جاتے تھے اور منوں مٹھائیں بن کر خاص و عام میں تقسیم کی جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

دہی کے گُن کون گنوائے!

دیوالی مٹھائیوں کا تہوار بھی ہے

دیوالی پر پٹاخے نہیں چلیں گے؟

ادرک کے 100 گن


جمنا کے کنارے آتش بازی کا تماشا ہوتا تھا اور لوگوں کا ہجوم آتش بازی کا لطف اٹھانے جمنا کنارے جمع ہوا کرتا تھا۔

یہ تھا ایک مختصر سا بیان کہ زمانۂ قدیم میں دلی میں دیوالی کس شان اور اہتمام کے ساتھ منائی جاتی تھی۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ عہد سلاطین میں اور عہد مغلیہ میں اس جشن کو کیسے منایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دیوالی میں اس زمانے میں بھی شہر کے مختلف حصوں میں چراغاں ہوتے تھے

محمد بن تغلق نے سنہ 1324 سے لے کر سنہ 1351 تک دہلی پر حکومت کی۔ وہ دہلی کے پہلے مسلم حکمراں تھے جنھوں نے محل میں دیوالی کا جشن منایا گوکہ وہ جشن اس وقت صرف سلطان کے حرم تک محدود تھا اور یہ سلسلہ مغلیہ عہد تک قائم رہا۔

اکبر بادشاہ نے مغلیہ سلطنت میں بھائی چارے کی مثال کو مضبوط بنایا اور دیوالی کو شاہی جشن کی صورت عطا کی۔ آگرہ اور فتح پور سیکری میں یہ جشن بہت شان و شوکت کے سے منایا جاتا تھا۔

دیوالی کا جشن سورج غروب ہوتے شروع ہو جاتا تھا۔ مٹی کے دیے جھلملا اٹھتے اور شہر جھاڑ فانوس اور چراغ دانوں کی روشنی سے منور ہو جاتا تھا۔

جہانگیر نے بھی دیوالی کے جشن کو بڑی شان سے منایا۔ بادام کا شربت مٹی کے کٹوروں میں ہر خاص و عام کا تحفہ ہوتا۔ دیوالی کی مناسبت سے یہ شربت سفید رنگ کا ہوتا تھا۔ شاید یہیں سے ہندوستان میں ٹھنڈائی کی ابتدا ہوئی۔

جب شاہجہاں نے شاہجہاں آباد کو اپنا دارالحکومت بنایا تو دلی میں دیوالی کا جشن عام ہو گیا۔ شاہ جہاں نے لال قلعے میں آکاش دیا لگوایا جس کی روشنی میں چاندنی چوک نہا جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس موقعے پر مٹی کے دیے بڑے پیمانے پر بنائے جاتے ہیں

آکاش دیا ایک بہت بڑا چراغ تھا جو 16 رسیوں کی مدد سے 40 فٹ اونچے ستون پر لٹکایا جاتا تھا جس میں 100 کلو سفرے جلائے جاتے تھے۔

شاہجہاں کے عہد حکومت میں عیش و عشرت کی جلوہ گری تھی۔ صلح و آشتی کا دور دورہ تھا اور دیوالی کا جشن بھی اہتمام سے منایا جاتا تھا۔ شاہی باورچی خانے مٹھائی اور ضیافت کے کھانوں کی تیاری میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے تھے۔ بادام، پستہ، عرق گلاب اور زعفران و شہد سے بنی مٹھائیاں دیوالی کا خاص تحفہ ہوتی تھیں۔

اس کے ساتھ ہی 56 تھال جس میں پانچ یا چھ ریاستوں کی مٹھائیاں سجی ہوتی تھیں وہ دیوالی کی ضیافت کا اہم حصہ ہوتی تھیں۔

ہر حویلی گھر چراغوں کی روشنی سے دمکتا تھا اور کہا جاتا کہ چاندنی چوک سے گزرنے والی نہر کے دونوں جانب دیوں کی قطار روشن ہو جاتی تھی اور پانی میں اس کا عکس دلفریب منظر پیش کرتا تھا۔

دہلی میں شاہی دیوالی کے جشن کا یہ سلسلہ بہادر شاہ ظفر کے عہد تک جاری رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طرح طرح کے دیے آج بھی مروج ہیں

لال قلعے میں کھیل، بتاشے، کھانڈ، کھیر اور انواع و اقسام کی مٹھائیاں ہر خاص و عام کے لیے تیار کی جاتی تھی اور آتش بازی کے تماشے جمنا کنارے ہوتے اور مہرولی میں رات کو دن میں تبدیل کر دیتے تھے۔

فیروز بخت کی تحقیق ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے محل میں لکشمی پوجا کا انتظام ہوتا تھا۔

محمد شاہ رنگیلا شاید آخری تاجدار مغل تھے جنھوں نے لال قلعے میں آکاش دیے کو روشن کیا۔

مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد نوابین اودھ نے اس سلسلے کو جاری رکھا۔ اردو کے مشہور شاعر میر تقی میر نے نواب آصف الدولہ کی دیوالی پر مثنوی لکھی تھی۔ واجد علی شاہ نے اس تہوار کو ٹھمری اور کرشن و رادھا کے رقص سے مزید رونق بخشی۔ اردو زبان کے شعرا نے دیوالی کے لطف کو سراہا اور نغمہ سرائی کی۔

دوستو کیا کیا دیوالی میں نشاط و عیش ہے

سب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایان ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دیوالی کے موقعے پر تحفے مین مٹھائیاں دینے کا آج بھی رواج ہے

نظیر اکبر آبادی نے کہا:

ہے دسہرہ میں بھی یوں گر فرحت و زینت نظیر

پر دیوالی بھی عجب پاکیزہ تر تہوار ہے

کسی دوسرے شاعر نے کہا:

آج کی رات دیوالی ہے دیے روشن ہیں

آج کی رات یہ لگتا ہے پری آئے گی

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں