’آپ معذور ہیں تو کسی کو آپ کے ریپ سے کیا ملے گا؟‘

’میں آپ سب کی طرح چل نہیں سکتی لہٰذا سب مجھ پر ہنس رہے ہیں۔‘

افسوس کہ پولیس مجھ پر یقین نہیں کرتی اور وہ کہتی ہے کہ 'آپ معذور ہیں، کسی کو آپ کی عصمت دری سے کیا ملے گا؟'

لیکن میں سچ کہہ رہی ہوں دو آدمیوں نے میرا ریپ کیا اور ان میں سے ایک میرا پڑوسی راگھو تھا۔

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

’خوش قسمت ہوں کہ میرا ریپ نہیں ہوا‘

میں راگھو کے گھر اس وجہ سے جاتی تھی کیونکہ اس کے پاس رنگین ٹی وی تھا۔ ٹی وی دیکھنا مجھے پسند تھا اور راگھو کو بھی یہ اچھا لگتا تھا۔

مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ راگھو کو پسند کرتی ہوں۔ ایک دن اس نے مجھے کہا کہ' کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟' اور اس پر کمرے میں موجود سب لوگ ہنس پڑے اور میں بھی شرما گئی۔

راگھو کا خاندان بھی میرا خیال رکھتا تھا اور اسی وجہ سے میری ماں بھی مجھے وہاں محفوظ تصور کرتی تھی۔

لیکن ایک دن راگھو کے گھر ٹی وی دیکھنے گئی تو وہ مجھے باہر لے گیا۔ گاڑی میں اس کا دوست بھی موجود تھا اور دونوں نے مجھے چپس اور ٹھنڈا مشروب پیش کیا۔

مشروب اچھا لیکن اس کو پینے سے غنودگی طاری ہو گئی اور اس کے بعد کچھ دیا نہیں رہا لیکن بعد میں سمجھ آیا کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔

ملتان : 12 سالہ لڑکی کے ریپ کا بدلہ، 17 سالہ لڑکی کا ریپ

'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘

بعد میں میری حالت کو دیکھ کر والدہ اور خاندان کے دیگر افراد سڑک پر ہی گر پڑے۔

میری والدہ نے مجھے یقین دلایا اور میری چوٹوں کو دیکھنے کے بعد میرے بارے میں سوچا اور پھر پولیس سٹیشن چلی گئیں۔

'میں راگھو اور اس کے دوست کو سزا دینا چاہتی تھی۔ میں اس کے دوست کا نام نہیں جانتی تھی لیکن میں نے پولیس کو راگھو کا نام بتایا مگر پولیس سوچتی ہے کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں۔ میرے زخموں کے باعث پولیس نے مجھے ہسپتال میں بھرتی کیا لیکن بات نہیں سنی۔'

پولیس نے ماں کو بتایا کہ 'تمھاری لڑکی نارمل نہیں ہے، ہم کیسے سمجھے کہ اس نے صحیح لڑکے کا نام بتایا ہے۔'

انڈیا: گینگ ریپ کی شکایت پر پولیس کے غیرمہذب سوال

بعد میں پولیس نے مقدمہ درج کیا لیکن اس کے نزدیک میں جھوٹی ہوں۔ وہ کیسے تحقیقات کریں گے اور عدالت میں ثبوت فراہم کریں گے۔'

'میں بہت روئی اور میری ہمت جواب دے گی، ہمسایوں نے بھی راگھو کے حق میں بات کی اور ہر ایک نے کہا کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور آپ معذور ہیں تو آپ کے ساتھ کس طرح جسمانی تعلقات قائم کرنا چاہے گا۔ کسی نے میرے بات پر یقین نہیں کیا۔ اس نے جب شادی کی پیشکش کی تھی تو میں نے دل ہی دل میں ہاں کر دی تھی۔ میں نے اس سے پیار کیا لیکن اس نے بہت برا کیا اور ایک رات میں سب کچھ بدل گیا۔'

ریپ کا شکار دس سالہ انڈین بچی کو اسقاطِ حمل کی اجازت

اس کے بعد میرا بھائی پولیس کے پاس جانے پر ہم سے ناراض ہو گیا اور کہا کہ اس سے خاندان کی عزت داغ دار ہو گئی ہے۔

اس نے ماں اور مجھے گھر سے نکال دیا اور اب ہم دونوں اپنی بڑی بہن کے ساتھ رہتے ہیں۔ لیکن میں اپنے گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔ میں وہاں پلی بڑھی میرا سب کچھ وہاں تھا۔ مجھے اپنے دوستوں کی یاد آتی ہے اور اب سب خوفزدہ ہیں۔

میں اپنی بہن کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی اور کوئی کام کاج کر کے پیسے کمانا چاہتی ہوں تاکہ اپنی والدہ کے ساتھ گھر میں رہ سکوں۔

لیکن یہ آسان نہیں تھا۔ میری پڑھائی مکمل نہیں ہوئی تھی کیونکہ سکول میں باقی بچوں سے پیچھے رہ گئی اور ٹیچر نے مجھے سکول سے نکال دیا۔

اس کے بعد میری والدہ نے مجھے گھر میں پڑھانا شروع کیا لیکن مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی۔

اس وجہ سے میں نے معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'شروتی' میں تربیت حاصل کرنا شروع کی تاکہ چھوٹے پیمانے پر کوئی کام شروع کر سکوں۔

لیکن ماں خوفزدہ ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ پہلے عدالت میں ریپ کا کیس مکمل ہو جائے کیونکہ میرے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا ہے اور لوگ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں۔

میری ماں کے لیے رسوائی کا یہ داغ دھونا سب سے زیادہ خوشگوار ہو گا تاہم میرے لیے یہ دنیا کا نظریہ ہے اور میرے نزدیک اس سب کے باوجود میرے خواب زندہ ہیں اور میں کام اور شادی بھی کرنا چاہتی ہوں۔

(بی بی سی ہندی کی نامہ نگار دیویا آریہ نے حقیقت میں رونما ہونے والے اس واقعے کو متاثرہ لڑکی سے بات چیت کر کے رپورٹ کیا۔)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں