کیا مودی مقبولیت کھو رہے ہیں

نریندر مودی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کی معیشت کی سست روی وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے

تین برس پہلے نریندر مودی کی لینڈسلائیڈ فتح کی وجوہات میں سے ایک ان کی شعلہ بیانی تھی۔ لیکن مودی اب وہ کافی دھیمے پڑ چکے ہیں۔ مودی کی روایتی شعلہ بیانی کیوں مدھم پڑ رہی ہے؟ ایک حالیہ تقریر میں انھوں نے اپنی معاشی مشکلات کی ذمہ داری کانگریس کی حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ نریندر مودی نے اپنے آپ کو 'اجنبی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی خاطر زہر بھی پینے کو تیار ہیں۔ اس کیا مطلب ہے؟ کیا وہ اب فاتح سے مفتوح میں بدل چکے ہیں۔

مودی نے حال میں کمپنیوں کے سیکریٹریوں سے ملاقات میں کہا ہے کہ ' کچھ لوگوں نے ہمیں کمزرو کیا ہے اور ہمیں ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنی ہوگی۔'

تو کیا مودی اپنا طلسماتی اثر کھو رہے ہیں۔ تین سال پہلے جب انھوں نے انتخاب میں ’لینڈ سلائیڈ‘ فتح حاصل کی تو انھوں نے ملک میں اصلاحات اور روزگار مہیا کرنے کا عہد کیا تھا لیکن ان کی قیادت میں ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ایسے وقت میں جب دنیا کی معیشتیں بہتری کی طرف گامزن ہیں انڈیا کی معیشت سست روی کا شکار ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rex Features
Image caption جے ایس ٹی کے نفاذ نے کاروبار کی دنیا کو پریشان کر دیا ہے۔

بینک قرضوں کے پہاڑوں تلے دب چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ ملکی کاروبار کو قرضے فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ ماہر معیشت پراوین چکرورتی کہتے ہیں'انڈیا کی معیشت بیٹھ چکی ہے'۔

مودی حکومت کی متنازعہ کرنسی اصلاحات نے جسے انھوں نے غیر قانونی معیشت کے خلاف ایک قدم قرار دے کر ووٹروں کو بیچنے کی کوشش کی تھی ان کے اس اقدام نے نہ صرف لوگوں کے بے پناہ مشکلات پیدا کیں بلکہ معیشت کو سست کر دیا ہے۔

مودی حکومت کی جانب جی ایس ٹی ٹیکس کے متعارف کرائے جانے کے فیصلے نے کاروبار کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انڈیا کی دیہاتی آبادی کا نصف زراعت کے شعبے سے منسلک ہے جن کو شکایت ہے کہ انھیں زرعی پیدوار کی صحیح قیمت نہیں مل پا رہی ہے اور حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ تین سالہ پہلے لینڈ سلائیڈ وکٹری کے بعد مودی حکومت دباؤ میں نظر آ رہی ہے۔ .

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نریندر مودی نے اپنے قریبی ساتھی امت شاہ کی مدد سے پارٹی پر مکمل غلبہ قائم رکھا ہے۔

حکمران جماعت بی جے پی کے ایک سینیئر رہنما نے نریندر مودی کو ملک کی معاشی سست روی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ یشونت سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انھوں نے غربت کو قریب سے دیکھا ہے اور اب وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کی ساری آبادی غربت کو قریب سے دیکھے۔

مودی کو حزب مخالف سے بھی پہلی بار تنقید کا سامنا ہے۔ مودی کے سیاسی حریف راہول گاندھی اچانک متحرک ہو گئے ہیں اور انھوں نے نریندر مودی پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔

مودی کے قریبی ساتھی امت شاہ کے بیٹے کی کرپشن کی خبروں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ امت شاہ کے بیٹے جے شاہ کسی کرپشن کی تردید کرتے ہیں اور انھوں نے کرپشن کی خبر نشر کرنے والی ویب سائٹ 'دی وائر' کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی ہے۔

مودی جب سے مسند اقتدار پر بیٹھے ہیں انھیں چار چیزوں نے بہت فائدہ پہنچایا ہے۔

انڈیا تیل کی بڑی ضرورت بیرون ملک سے خام تیل درآمد کر کے پوری کرتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور استحکام سے ترقی کی شرح کو بڑھانے اور مہنگائی کی شرح پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔

انڈیا کے میڈیا کی آمدن کا بڑا ذریعہ حکومتی اشتہارات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے میڈیا کا ایک بڑا حصہ ان پر تنقید سےگریز کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مودی بے جی پی پر مکمل غلبہ ہے اور وہ اپنے قریبی ساتھی امت شاہ کے ذریعے پارٹی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے سیاسی مخالفین بکھرے ہوئے ہیں اور وہ متبادل بیانیہ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار شیکھر گپتا کہتے ہیں کہ آج کل سوشل میڈیا پر نریندر مودی کے جھگڑالو حامی بھی بجھے بجھے سے ہیں۔ جبکہ ان کے مخالفین سوشل میڈیا پر کھل ان کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔

مودی کے اندازِ سیاست نے بھی لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ انھوں نے جس انداز میں گائے کا گوشت کھانےاور بیچنے کے مسئلے پر لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا اور انتہا پسندوں پسندوں کی چاپلوسی کرتے نظر آئے اس نے شہری نوجوانوں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

بی جے پی نے اترپردیش میں جس مسلمان مخالف سیاستدان کو چیف منسٹر بنا دیا ہے، اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ یہ بھارت کی وہ ریاست ہے جس کی آبادی 20 کروڑ سے زیادہ ہے اور اس کی آبادی کا پانچوں حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption معاشی مشکلات کے باوجود بی جے پی اب بھی انڈیا کی مقبول ترین جماعت ہے

2014 میں مودی کی جیت میں نوجوانوں کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اب نوجوانوں میں بھی ان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔ حال ہی میں دہلی اور حیدرآباد کی تین بڑی یونیورسٹیوں میں بی جے پی کی حامی طلبا یونین انتخابات میں ہار گئی ہیں

بنارس کی یونیورسٹی میں پولیس نے جس انداز میں میبنہ جنسی حملے کے خلاف احتجاج کرنے والی طالبات کی پٹائی کی ہے وہ نوجوان ووٹروں کو پسند نہیں آئی ہے۔

مودی حکومت کے نقادوں کا خیال ہے کہ جتنی طاقتور حکومت بی جے پی کی تھی، مودی اس کے حوالے کچھ زیادہ حاصل نہیں کر سکے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ مودی کی معاشی پالیسیاں بی جے پی کی نظریاتی سرچشمے کی یرغمال بن چکی ہیں جو ہندو تہذیب کو عظمت کی بلندیوں پر لے جانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر چکرورتی سمجھتے ہیں کہ مودی اب بھی سٹاک مارکیٹ میں موجود غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معیشت کو دوبارہ بحال کر سکتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ حکومتی سرپرستی میں چلنے والی کمپنیوں میں حکومتی حصہ داری کو کم کر کے بینکوں کو قرضوں کے پہاڑ سے نکال کر انھیں دوبارہ ملکی ترقی کا انجن بنا سکتے ہیں۔

ماہر معاشیات سمجھتے ہیں کہ مودی حکومت کرنسی کی قدر میں کمی کر کے برآمدات میں اضافہ کر سکتی ہے جس سے معاشی ترقی پر مثبت فرق پڑ سکتا ہے۔

ان ساری مشکلات کے باوجود اس بات سے انکار ممکن ہے کہ نریندر مودی ایک فائٹر سیاستدان ہیں اور یہ کہنا قبل ازوقت ہو گا کہ وہ مقبولیت کھو چکے ہیں۔ اگست میں ہونے والے ایک سروے میں یہ سامنے آیا تھا کہ اگر آج انتخابات ہوں تو وہ ایک بار بھر وزیر اعظم بن جائیں گے لیکن کہا جاتا ہے کہ سیاست میں ایک ماہ کا عرصہ بہت طویل ہوتا ہے۔

قریباً دو ماہ بعد نریندر مودی کی ریاست گجرات میں انتخابات ہونے کو ہیں اور اس انتخابات کے نتائج ان کی مقبولیت کے کچھ اشارہ ضرور مہیا کریں گے۔

کوئی بھی یہ امید نہیں لگائے بیٹھا ہے کہ نریندر مودی کی جماعت گجرات میں انتخابات ہار جائے گی لیکن یہ سب جاننے کے لیے بیتاب ہیں کہ ان کی فتح کا مارجن کیا ہو گا۔ سیاسی تجزیہ کار سنجے کمار کے مطابق مودی کی ذاتی ایمانداری اور ان کےمحنتی ہونے کی شہرت ان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے جو اب بھی ان کے پاس ہے۔ لیکن سوال ہے کہ وہ اس سرمایے کو کتنے عرصے تک سنبھال پاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماہرین سمجھتے ہیں کہ مودی حکومت اب بھی معیشت کو دوبارہ بحال کر سکتی ہے

متعلقہ عنوانات