ہندو پجاریوں سے شادی پر تین لاکھ روپے کی امداد کا اعلان

برہمن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں ہندو ذات پات کے نظام میں برہمن کو اعلی ترین خیال کیا جاتا ہے

انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ہندو پجاریوں سے شادی کرنے والی خواتین کو تین، تین لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ اعلان تلنگانہ برہمن فلاح و بہبود کونسل کی طرف سے کیا گیا ہے۔ اعلان کے بعد معاشرے کے مختلف حصوں سے رد عمل سامنے آیا ہے۔

اپنے اس فیصلے کی حمایت میں تلنگانہ برہمن کلیان تنظیم کا کہنا ہے کہ پجاریوں کی معاشی بدحالی کے سبب انھیں دلہن ملنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اسی لیے انھیں مالی امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

٭ پیسے لے کر معذور سے شادی کریں گے؟

٭ ’انڈیا میں جہیز کی وجہ لڑکیوں کی بدصورتی‘

٭ انڈیا کی دھتکاری ہوئی بیویاں

برہمن پریشد یعنی کونسل کے صدر کیوی رمنچاری کا کہنا ہے کہ ’جب تک پجاری موجود ہیں اس وقت تک مندر اور اس کا نظام جاری رہے گا اور اس فیصلے سے سب مستفید ہوں گے۔‘

’مہا برہمن سنگھم‘ کے سیکریٹری اودھانولا نرسمہا شرما کہتے ہیں کہ ’غریب برہمنوں کی مدد اور ان کی فلاح کے ساتھ (ہندو) تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اس قسم کے فیصلے ضروری ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی ہند کی ایک شادی کا منظر

خیال رہے کہ تلنگانہ حکومت نے سنہ 2016 کے اپنے بجٹ میں برہمنوں کی فلاح و بہبود کے لیے 100 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔

اگرچہ بعض پجاری غریب ہو سکتے ہیں تاہم اس فیصلے پر سماج کے بعض طبقے سے تنقید ہو رہی ہے۔

سماجی ترقی کونسل کی ڈائریکٹر کلپنا كننابھرن کے مطابق: ’اس طرح کے فیصلے آئینی اصول سے ہم آہنگ نہیں ہیں اور (برہمن) کونسل اپنے فیصلے کو چھپانے کے لیے انتظامیہ کی ہدایات کی آڑ لے رہی ہے۔ کسی کی شادی ریاست کی ذمہ داری کس طرح ہو سکتی ہے؟ اگر کوئی تنہا رہتا ہے تو کیا یہ حکومت کا مسئلہ ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ اس قسم کی مالی امداد سے ایک ہی طبقے کے مفاد پورے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

انھوں نے سوال کیا: ’آئین کے مطابق معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے فلاح و بہبود کے اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ ان لوگوں کے لیے جو اس دائرے میں نہیں آتے۔ کیا بغیر پیسے کے شادیاں نہیں کرائي جا سکتیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی ہند میں شادی کے موقعے پر بہت سارے رسم و رواج کی پابندی کی جاتی ہے

کلپنا نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے منصوبے گرتے ہوئے سماجی رسم و رواج کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ سماج میں ذات کے جاگیردارانہ نظام کی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہیں۔'

اسی معاملے پر ہائی کورٹ کی ایک وکیل رچنا ریڈی نے کہا: ’یہ منصوبہ ہندوؤں کے شادی کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘

سماجی کارکن دیوی کہتی ہیں کہ ’اس منصوبے سے ایسا لگتا ہے کہ پجاریوں کو جہیز دیا جا رہا ہے۔‘

دریں اثنا، برہمن پریشد نے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں اس منصوبے کی مکمل تفصیلات پیش کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں